خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 450 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 450

خطبات طاہر جلد ۱۰ 450 خطبه جمعه ۲۴ رمئی ۱۹۹۱ء سے بیٹھنا چاہئے تھا، مگر اس وقت میں چھوڑتا گیا ہوں لیکن جب یہ خطبہ ضبط تحریر میں آئے گا تو کاتب وہ ذکر بھی کر دے گایا ان کو اٹھا کر وہیں لے جائے گا جہاں ان کو ہونا چاہئے۔یعنی جب یہ سلسلہ خطبات اکٹھا شائع ہو گا تو آج جو ان آیات سے متعلق گفتگو ہوئی ہے ان کو ہم اصل مقام پر لے جائیں گے تو جو لوگ سن رہے ہیں وہ بعد میں خیال نہ کریں کہ غلطی ہوگئی ہے۔بالا ارادہ ایسا کیا جائے گا۔اب جہاں سے مضمون چھوڑا تھا وہاں سے پھر بات شروع کرتا ہوں سورۃ الشعراء آیات ااتا ۱۸ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا کا ذکر فرمایا گیا ہے۔وَإِذْ نَادَى رَبِّكَ مُوسَى أَنِ انْتِ الْقَوْمَ الظَّلِمِينَ قَوْمَ فِرْعَوْنَ الَا يَتَّقُونَ قَالَ رَبِّ إِنِّي أَخَافُ أَنْ يُكَذِّبُونِ وَيَضِيقُ صَدْرِى وَلَا يَنْطَلِقُ لِسَانِي فَأَرْسِلْ إلى هُرُونَ وَلَهُمْ عَلَى ذَنْبُ فَأَخَافُ أَنْ يَقْتُلُوْنِ (الشعراء: ۱-۱۵) حضرت موسیٰ علیہ السلام پر جب خدا تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی اور ان کو حکم فرمایا کہ تو فرعون کی ظالم قوم کی طرف جا۔اَلا يَتَّقُونَ کیوں وہ تقویٰ اختیار نہیں کرتے۔کیوں وہ خدا خوفی کی راہ اختیار نہیں کرتے۔قَالَ رَبِّ اِنّى اَخَافُ اَنْ تُكَذِّبُونِ اے خدا میں ڈرتا ہوں کہ مجھے جھٹلا نہ دیں اب یہ جو لفظ ہے جھٹلانے کا اس میں حضرت موسیٰ کا ذہن اس طرف نہیں جاتا کہ انبیاء کو ہمیشہ جھٹلایا جاتا ہے بلکہ خاص دلیل آپ کے ذہن میں ہے جس کو قرآن کریم کھول کر بیان فرماتا ہے وہ کہتے ہیں وہ تقویٰ اختیار نہیں کرتے ٹھیک ہے پر میں بھی تو ایک بات سے ڈرتا ہوں اور وہ خوف میرا یہ ہے کہ وہ مجھے جھٹلا دیں گے اور کیوں جھٹلائیں گے۔وَيَضِيقُ صَدْرِی وَلَا يَنْطَلِقُ لِسَانِي میرا سینہ باتیں بیان کرتے وقت کھلتا نہیں ہے۔میں کوئی مضمون سوچ کر بیان کرنا چاہتا ہوں تو اپنے سینے میں تنگی محسوس کرتا ہوں اور یہ انسانی تجربہ کی بات ہے۔بسا اوقات ایک انسان بات ٹھیک بیان نہیں کر سکتا۔طالب علم امتحان میں بعض باتیں جانتے ہوئے بھی پیش نہیں کر سکتے۔یہ ضروری نہیں کہ جو طالب علم نا کام رہے یا کم نمبر لے وہ ضرور ہی نالائق ہو گا۔بعض دفعہ اس بے چارے کو بات پیش کرنے کا سلیقہ نہیں آتا۔تو حضرت موسیٰ نے اسی طرح اللہ تعالیٰ سے عرض کیا۔وَلَا يَنْطَلِقُ لِسَانِي