خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 449
خطبات طاہر جلد ۱۰ 449 خطبه جمعه ۲۴ رمئی ۱۹۹۱ء دیتے یا نہ دیتے خدا کی تقدیر نے اس کو بہر حال محفوظ کرنا تھا۔پس فرمایا کہ فارغ وقت میں یہ کیا کر کہ مجھ سے اور دعائیں مانگا کر اور یہ کہا کر کہ اور بھی علم نازل فرما۔اور جو علم ہے بجائے اس کے کہ میں اسے کھو دوں میر اعلم بڑھا دے کیونکہ جو بات بھول جائے وہ حاصل کیا ہوا علم انسان کھو دیتا ہے۔تو زدنی علما میں یہ بتایا کہ تیرے علم کو کھونے کا تو سوال ہی کوئی نہیں ہم جو ذمہ دار ہو گئے ہیں۔ہاں تو مزید مانگا کر۔اس دعا کے ضمن میں ایک اور دعا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہام سکھائی گئی وہ بھی میں آپ کو بتا تا ہوں۔وہ یہ ہے کہ رَبِّ اَرِنِی حَقَائِقَ الْأَشْيَاء ( تذکرہ صفحہ: ۶۱۳)اے میرے اللہ مجھے اشیاء کی حقیقتیں بتا۔یعنی ان کے اندر جو گہرے راز ہیں وہ سمجھا۔میں بالعموم قرآن کریم کی اس دعا کے ساتھ اس دعا کو ملا کر کرتا ہوں اور خصوصاً اس وقت جبکہ کسی قسم کی رہنمائی کی خاص ضرورت ہو اور میرا تجربہ ہے کہ اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ بہت سے ایسے مطالب پر آگاہی فرماتا ہے جس کی طرف انسان کا اپنا ذ ہن اپنی کوشش سے جانہیں سکتا۔الہام تو نہیں ہوتا لیکن اس طرح خدا تعالیٰ نکتے اچانک دماغ میں ڈال دیتا ہے کہ آدمی حیران رہ جاتا ہے۔پس جماعت کو بھی اس قرآنی دعا سے استفادہ کرنا چاہئے اور ہمارے طالب علموں کو خاص طور پر اس دعا کو جو چھوٹی سی دعا ہے ، ایک چھوٹا سا فقرہ ہے وَقُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا اس کو پڑھتے رہنا چاہئے۔اس کے نتیجہ میں ان کی توجہ اس امر کی طرف بھی مبذول ہوتی رہنی چاہئے کہ اصل علم کلام الہی ہے۔دوسرادنیا کا جو علم ہے وہ ثانوی علم ہے۔یہاں قرآن کریم کی وحی سے متعلق علم کا لفظ استعمال ہوا ہے۔چنانچہ طالب علم جب یہ دعا مانگیں قُلْ رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا تو یہ نہ کیا کریں کہ اعلیٰ مضمون کو چھوڑ دیا کریں اور ادنی مضمون کو ذہن میں رکھ کر دعا کیا کریں۔دعا یہ کیا کریں کہ اے خدا ہم دنیا کے عارضی علوم کی طرف متوجہ ہیں۔یہ مجبوریاں ہیں۔ہمیں وہ علم بھی عطا فرما جو تو نے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل فرمایا تھا اور اس کے صدقہ میں ہمیں یہ دنیاوی علم بھی عطا فرمادے جو اس کی ذیل میں آتا ہے۔صلى الله وَلَا تَعْجَلْ بِالْقُرْآنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُقْضَى إِلَيْكَ وَحْيُه وَقُلْ رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا (۱۱۵:۴) اس کے ساتھ ساتھ میں نے وہ جگہیں بھی درج کروالی ہیں جہاں ان کو اپنی ترتیب کے لحاظ