خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 448 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 448

خطبات طاہر جلد ۱۰ 448 خطبه جمعه ۲۴ مئی ۱۹۹۱ء جب دعا کریں گے تو انشاء اللہ قبولیت دعا کے عظیم الشان نظارے دیکھیں گے۔ صلى الله قرآن کریم سے پتا چلتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کو اتنی دعا ئیں خدا تعالیٰ نے خود سکھائی ہیں علي کہ اور کسی نبی کے ذکر میں خدا تعالیٰ کی طرف سے سکھائی ہوئی دعا ئیں اس کثرت سے نہیں ملتیں۔ ایک موقعہ پر فرمایا وَلَا تَعْجَلْ بِالْقُرْآنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُقْضَى إِلَيْكَ وَحْيُهُ وَقُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا (طہ: (۱۱۵) اے میرے بندے تو جب وحی نازل ہوا کرے تو جلدی جلدی اسے دہرانے کی کوشش نہ کیا کر کہ کہیں بھول نہ جائے ۔ وَ قُلْ رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا اور یہ کہا کہ اے میرے رب میرا علم بڑھاتا چلا جا۔ صلى الله صلى الله ۔ اس سے آنحضرت ﷺ کی معصومیت کا بھی پتہ چلتا ہے اور خدا تعالیٰ کے کلام کو کس طرح دیکھتے تھے اس کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔ وحی نازل کرنا بھی خدا کا کام ہے اور وحی کو محفوظ کرنا بھی خدا کا کام ہے۔ مگر جس کو کسی چیز سے بے انتہاء محبت ہو اور اسے وہ سنبھالنا چا ہے۔ اسے یقین بھی ہو کہ یہ چیز سنبھل جائے گی تب بھی وہ اپنی طرف سے بہت کوشش کرتا ہے اور جلدی جلدی ہاتھ پاؤں مار کر اسے سمیٹنے کی کوشش کرتا ہے۔ پس یہ وہ نقشہ ہے جو آنحضرت ﷺ کا کھینچا گیا۔ جب آپ پر وحی نا نازل ہوتی تھی آپ تیزی کے ساتھ زبان چلاتے تھے اور اس وحی کو دہراتے چلے جاتے تھے تا کہ کوئی بھی لفظ کوئی نقطہ بھی ادھر سے ادھر نہ ہو۔ تب اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ فرمایا کہ تجھے یہ محنت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ہاں اس عرصہ میں تو یہ دعا کیا کر وَ قُلْ رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا اے میرے الله میرا علم بڑھا ۔ اب یہ جو دعا ہے اس سے پتا چلتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کا جو نظام حفظ تھا ، وہ عام نظام حفظ جیسا نہیں تھا بلکہ جہاں تک وحی کا تعلق ہے ہو سکتا ہے باقی انبیاء کو بھی یہی امتیاز حاصل ہو کہ وحی اس رنگ میں نازل ہوتی ہے کہ وہ از خود ذہن پر نقش ہو جاتی ہے اور اسے توجہ سے سن کر یاد کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ دعا وہ سکھائی گئی ہے جو بالکل اور ہے کہ اے میرے رب میرا علم بڑھا دے۔ آپ کسی کی بات سن رہے ہوں اور کوئی اور بات منہ سے کر رہے ہوں۔ تو جو آپ سن رہے ہیں نہ وہ سمجھ سکتے ہیں نہ اسے یاد کر سکتے ہیں۔ تو وحی کے وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ دعا سکھایا جانا کہ یہ دعا کیا کر، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی ذہنی کوشش کا وحی کو محفوظ کرنے سے کوئی علاقہ نہیں تھا وہ از خود اترتی تھی اور نقش بن کر ، دائمی نقش بن کر جمتی چلی جاتی تھی اور توجہ اس طرف