خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 447
خطبات طاہر جلد ۱۰ 447 خطبه جمعه ۲۴ رمئی ۱۹۹۱ء پہلے ہی ہوش میں کھڑے ہوں گے (حوالہ اس کی تو جہیہ اس حدیث میں یہ بیان ہوئی ہے کہ موسیٰ کو اس سے پہلے اس کا تجربہ ہوچکا ہے وہ بجلی جس کے نتیجہ میں آنا فانا انسان ہوش وحواس کھو بیٹھتا ہے اس کا جلوہ اتنا سخت ہے کہ طبیعتیں برداشت نہیں کر سکتیں۔اس دنیا میں موسیٰ نے مانگ لی تھی اور اس کا تھوڑا سا نمونہ موسیٰ دیکھ چکا ہے۔پس چونکہ اس میدان کا کھلاڑی رہ چکا ہے اس راہ سے گزر چکا ہے اس لئے جب واقعہ قیامت کے دن یہ تجلی ہوگی تو نسبتاً جلدی افاقہ ہوگا۔یہ حدیث اس آیت کی روشنی میں اور دوسری متعلقہ آیت کی روشنی میں جس کا میں نے ذکر کیا ہے قابل غور ہے لیکن عموماً آپ کو مفسرین اور ماہرین حدیث کی کتب میں یہی تشریح ملے گی۔بہر حال یہ جو دعا ہے اس میں ہے وَاَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِینَ یہ لفظ اول ہے اس سے مراد وقت کے لحاظ سے اول نہیں ہے کیونکہ حضرت موسیٰ سے بہت پہلے اول آچکے ہیں اور آنحضرت یہ معنوی لحاظ سے مومنوں میں سے سب سے اول ہیں پس اول اور آخر یہ دونوں لفظ جو ہمیں قرآن کریم یا احادیث میں ملتے ہیں یہ مرتبے کے لحاظ سے ہیں نہ کہ ظاہری وقت کے لحاظ سے۔اول جب کہا جاتا ہے تو مراد ہے نمبر میں پہلا ہے۔جس طرح کوئی امتحان میں فرسٹ آتا ہے اسے اول کہتے ہیں ویسا ہی مضمون ہے۔ایک دعا قوم میں بچھڑے کو معبود بنانے والوں میں سے ان لوگوں نے کی جو شرمندہ ہوئے تھے اور انہوں نے توبہ کی تھی۔وہ دعا یہ تھی وَلَمَّا سُقِطَ فِي أَيْدِيهِمْ وَرَأَوْا أَنَّهُمْ قَدْ ضَلُّوا قَالُوالَينْ لَّمْ يَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَيَغْفِرْ لَنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخُسِرِينَ (الاعراف: ۱۵۰)۔کہ جب وہ شرمندہ ہو گئے اور انہوں نے سمجھ لیا کہ وہ گمراہ ہو گئے تھے تب انہوں نے یہ دعا کی لَبِنْ لَّمْ يَرْحَمْنَا رَبُّنَا اگر ہمارا رب ہم پر ہم نہ فرمائے گا اور ہماری بخشش نہ فرمائے گا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَسِرِينَ یقینا ہم بہت گھانا پانے والوں میں سے ہوں گے۔پس دیکھیں ہر موقعے کے لئے ، ہر ایسی صورتحال کے لئے جس سے انسان دو چار ہوسکتا ہے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں کوئی نہ کوئی اس پر اطلاق پانے والی دعا ہمیں سکھا دی ہے اور اس لحاظ سے بھی اگر آپ قرآن کریم کی دعاؤں کو از بر کریں یا پوری یاد نہیں کر سکتے تو کچھ حصہ کبھی کبھی یا د کرتے رہا کریں اور قرآنی دعاؤں کو ہر مشکل کے وقت دیکھ لیا کریں۔آپ کو ضرور کوئی نہ کوئی دعا اپنی صورتحال پر اطلاق پاتی ہوئی ایسی ملے گی جس کو جس طرح وہ دعا کی گئی تھی اسی جذبہ کے ساتھ آپ