خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 446
خطبات طاہر جلد ۱۰ 446 خطبه جمعه ۲۴ رمئی ۱۹۹۱ء مل سکے۔پس آخری بات یہ کہہ دی کہ وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِینَ ہمیں بلانا اسی وقت جبکہ ہم تیری نظر میں فرمانبردار ہوں۔ایک حضرت موسیٰ“ کی مشہور دعا جو دیدار الہی کے لئے انہوں نے کی تھی ، حالانکہ دیدار تو روز ہوتا تھا۔کچھ اور معنوں میں وہ دیدار چاہتے تھے یہ سورۃ الاعراف ۱۴۴ ہے:۔وہ وَلَمَا جَاءَ مُوسَى لِمِيقَاتِنَا وَكَلَّمَهُ رَبُّہ اور جب وقت مقررہ اور مقررہ جگہ پر موسیٰ اللہ تعالیٰ کی ملاقات کے لئے حاضر ہوئے وَكَلَّمَهُ رَبُّہ اور خدا نے ان سے کلام کیا قَالَ رَبِّ اَرِنی انظُرْ إِلَيْكَ اے میرے خدا ایسا کر کہ میں تجھے دیکھوں اور بہت ہی خوبصورت محاورہ ہے۔آرتی اکا مطلب ہے مجھے دکھا۔انظر کہ میں دیکھوں۔تو عام بول چال میں ہم یہ کہہ سکیں گے اے اللہ مجھے دیکھا تو سہی کہ تو کیسا ہے تا کہ میں تجھے اپنی آنکھوں سے دیکھ تو لوں۔اَرِنِی أَنْظُرْ إِلَيْكَ قَالَ لَنْ تَرينى اے موسیٰ تو ہرگز مجھے نہیں دیکھ سکے گا۔وَلكِنِ انظُرُ إِلَى الْجَبَلِ فَإِنِ اسْتَقَرَّ مَكَانَہ فَسَوْفَ تَرائِی ہاں تو اس پہاڑ کی طرف دیکھ اگر یہ اپنے مقام پر ٹھہرا رہا پس پھر ممکن ہے تو بھی مجھے دیکھ سکے۔فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَكَّا وَ خَرَّمُوْسٰی صَعِقًا۔پس جب خدا تعالیٰ نے پہاڑ پر تجلی فرمائی جَعَلَهُ دَکا اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔وخَرَّمُوْسٰی صَعِقًا اور موسی غش کھا کر پچھاڑ کھا کر جاپڑے۔فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ سُبْحَنَكَ تُبْتُ إِلَيْكَ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ پس جب آپ کو ہوش آئی تو کہا سبحنك اے رب تو ہر کمزوری سے پاک ہے۔تُبْتُ إِلَيْكَ یعنی ایک دعا سے بات شروع ہوئی تھی دعا پر ختم ہو رہی تھی اس لئے پوری آیت پڑھنی پڑی ہے آپ کو بتانے کے لئے کہ بیچ کا مضمون کیا تھا اور آخر پر پھر ایک دعا ہے تُبت اليك میں تو بہ کرتا ہوں تیری طرف وَاَنَا اوَلُ الْمُؤْمِنِينَ اور میں پہلا مومن ہوں۔اس آیت کے ساتھ ایک روایت وابستہ ہے جس نے بعض اشکال بھی پیدا کئے ہیں اور کافی اس پر مفسرین نے اور احادیث کے ماہرین نے بخشیں کی ہیں۔روایت یہ ہے کہ قیامت کے دن جب حشر نشر ہوگا اور جب خدا تعالیٰ تجلی فرمائے گا تو سب بے ہوش ہو کر جاپڑیں گے اس وقت سوال یہ ہے کہ پہلے کس کو ہوش آئے گی۔ایک حدیث ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سب سے پہلے ہوش میں آئیں گے اور جب آنحضرت تم دیکھیں گے موسیٰ