خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 444
خطبات طاہر جلد ۱۰ 444 خطبه جمعه ۲۴ مئی ۱۹۹۱ء - دیکھیں کتنی پر حکمت دعا ہے۔کتنی گہری دعا ہے اور ایک عورت کو سمجھائی گئی جو نبی نہیں تھی اور اللہ تعالیٰ نے اس کی ایسی قدر فرمائی کہ قرآن کریم میں اس دعا کو ہمیشہ کے لئے محفوظ فرما دیا اور واقفین کے لئے اس دعا کو ایک ماڈل بنا کر پیش فرمایا۔پس وقف نو کے سب بچے اسی دعا کی حکمت کا فیض ہیں جو میرے دل میں ڈالی گئی اور اسی کے نتیجہ میں یہ وقف نو کی تحریک ہوئی۔فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قَالَتْ رَبِّ إِنِّي وَضَعْتُهَا اُنتی کہ تو یہ بیٹھی تھیں کہ جو کچھ ہے تیرے حضور ہے اور دماغ میں یہ تھا کہ لڑکا ہوگا۔یہ بھی خدا کے عجیب رنگ ہیں۔قرآن کریم میں جب آپ یہ دعائیں پڑھتے ہیں اور ان کی قبولیت کا حال دیکھتے ہیں تو بہت ہی لطیف مذاق خدا کی طرف سے چلتا ہے۔ایک بہت ہی گہرا رابطہ ہے دعا میں اور قبولیت میں۔اللہ تعالیٰ نے کہا اچھا جب تو نے یہ کہا کہ جو کچھ ہے تو پھر میری مرضی جو کچھ پیدا کروں۔ضروری نہیں کہ بیٹا ہی ہو چنانچہ جب بیٹی پیدا ہوئی تو اس نے کہا رَبِّ إِنِّي وَضَعْتُهَا أُنثی میری تو بیٹی پیدا ہوگئی وَ اللهُ أَعْلَمُ ! وَضَعَتْ حالانکه خدا از یادہ جانتا ہے کہ اس نے کیا پیدا کیا تھا۔اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ خدا کو بتارہی تھی کہ بیٹی ہے حالانکہ وہ جانتا ہے۔یہ تو عام سادہ معنی ہیں لیکن اس سے بھی زیادہ گہرے معنی یہ ہیں کہ اس کو کیا خبر تھی کہ جو بیٹی پیدا کر رہی ہے وہ بیٹوں سے بہت افضل ہوگی۔وہ تو ظاہر کو دیکھ رہی ہے وہ بیٹوں سے بہت افضل ہوگی لیکن میں نے اس کی آزمائش بھی کرلی اور اس کی دعا کو اعلیٰ رنگ میں قبول کیا ہے۔پس خدا کے لطائف میں کوئی انسانی لطائف کا رنگ نہیں ہوتا کہ جس کے نتیجہ میں دوسرے کو تکلیف پہنچے اور بھونڈا مذاق ہو۔خدا کے مذاق میں بھی ایک نعمت چھپی ہوئی ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے قبولیت کے بہت ہی لطیف رنگ ہیں۔کس رنگ میں وہ قبول کرتا ہے۔بظاہر دعا کے نقائص کی طرف انسان کو متوجہ بھی کر دیتا ہے اور پھر پردہ پوشی بھی فرما دیتا ہے۔بہر حال فرمایا وَلَيْسَ الذَّكَرُ كَالأُنثی مرد جو بھی ہو وہ اس عورت جیسا نہیں ہوسکتا۔اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ عام بچوں کی کیا بات ہے۔عام لڑکوں کا کیا ذکر وہ اس لڑکی کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔یہ ایک بہت ہی عظیم الشان لڑکی ہے۔دوسرا فرمایا وَلَيْسَ الذَّكَرُ كَالْأُنثى اس الأنثى جیسا اپنی نوعیت کے لحاظ سے کوئی لڑکا نہیں ہوسکتا۔کیونکہ اس کے اندر وہ صفات بھی رکھ دی گئی ہیں جن کے نتیجہ میں عورت مرد کی محتاج ہوتی ہے اور بچہ پیدا کرتی ہے اور پیدائش کی صفات بھی رکھ دی گئی ہیں یا کیلی کافی ہے اس کو کسی مرد کی ضرورت نہیں۔تو اس لحاظ سے عورتوں میں تو افضل تھی