خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 443 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 443

خطبات طاہر جلد ۱۰ 443 خطبه جمعه ۲۴ رمئی ۱۹۹۱ء عمران کی اس دعا کے نتیجہ میں پیدا ہوئیں: اِذْقَالَتِ امْرَأَتُ عِمْرَنَ رَبِّ إِنِّى نَذَرْتُ لَكَ مَا فِي بَطْنِى مُحَرَّرً ا فَتَقَبَّلُ مِنِى إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيْمُ اے میرے خدا جو کچھ میرے پیٹ میں ہے، میں نے تیرے حضور پیش کر دیا۔مُحَرَّرًا آزاد کرتے ہوئے۔یہاں لفظ حَررًا بہت قابل غور ہے اور جو یہ دعا کرتے ہیں ان کو اس کا مضمون پیش نظر رکھنا چاہئے۔جب ہم زندگی وقف کرتے ہیں تو یوں معلوم ہوتا ہے جیسے آزادی سے قید کی طرف جارہے ہیں۔اپنی ساری آزادیاں کھودیں اور ہمیشہ کے لئے وقف کی زنجیروں میں باندھے گئے اور بہت سے واقفین بچے ہیں جن کو ان کے والدین یہی بتاتے ہیں کہ دیکھو سوچ سمجھ کر وقف کرو۔عمر بھر کی قید ہے تمہارا اپنا کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔اپنی مرضی قربان ہو جائے گی۔کوئی اپنا وطن نہیں رہے گا جماعت جہاں چاہے گی تمہیں اٹھا کر بھیج دے گی اور پھر جتنی دیر چاہے گی وہاں رکھے گی۔جس حال میں چاہے گی وہاں رکھے گی۔تو بہت ہی مشکل زندگی ہوگی۔یعنی دنیا کے لحاظ سے معمولی گزارا تو اور بات ہے لیکن اپنی مرضی کی ایسی قربانی کہ اپنی مرضی نہ رہے یہ ایک زبر دست قربانی ہے۔اس کے برعکس قرآن کریم وقف زندگی کو ایک بالکل اور رنگ میں پیش فرماتا ہے۔فرماتا ہے اس صاحب حکمت عورت نے یہ دعا کی کہ اے میرے خدا جو کچھ میرے پیٹ میں ہے۔میں تیرے حضور پیش کر کے اس کو آزاد کرتی ہوں۔آزاد کس سے؟ دنیا کے بھیجوں سے شیطان کی غلامی سے ہر اس چیز سے جو غیر اللہ ہے۔جو غیر اللہ کی طرف سے آتی ہے اس سے میں اسے آزاد کرتی ہوں۔یعنی آزادی کی ایک نئی تعریف فرما دی گئی۔یہ بتایا گیا کہ حقیقی آزادی وقف میں ہے جو خالصۂ خدا کی خاطر ہوا کرتا ہے اور جو خدا کا غلام ہو جائے وہ ہر غیر اللہ کی غلامی سے نجات پا جاتا ہے اور یہ وہ تجربہ ہے جو حقیقی واقفین کو ہمیشہ ہوتا رہتا ہے اور جو وقف کی روح کو سمجھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ انہوں نے ایک اللہ کی غلامی قبول کر کے ہزار غلامیوں سے نجات پالی ہے۔پس یہ بھی ایک رنگ سمجھانے کا ہے۔اس دعا کو سمجھ کر اس کے مطابق اپنے واقف بچوں کی تربیت کرنی چاہئے اور اس رنگ میں جب تربیت کریں گے تو کوئی شخص اپنی وقف زندگی کو بوجھ محسوس نہیں کرے گا۔اس میں کسی پابندی پر تلخی محسوس نہیں کرے گا۔بلکہ حقیقی آزادی یہی سمجھے گا کہ خدا کے سوا ہر دوسری چیز سے ہر دوسری قید سے وہ آزاد ہو چکا ہے۔إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ اے خدا! تو بہت ہی سننے والا اور بہت ہی جاننے والا ہے۔اب