خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 442 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 442

خطبات طاہر جلد ۱۰ 442 خطبه جمعه ۲۴ مئی ۱۹۹۱ء دوسری جگہ فرمایا کہ خدا کے وہ بندے جو متکبر ہیں، جو دنیا میں کھوئے جاتے ہیں ان کا رجوع نہیں ہوگا۔وہ خدا کی طرف نہیں لوٹائے جائیں گے۔ان دو باتوں میں تضاد نہیں ہے۔معنی یہ ہیں کہ وہ خدا کو پائیں گے نہیں۔اندھے لوٹائے جائیں گے، لوٹیں گے مگر دیکھیں گے کچھ نہیں۔ان کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا پس یہاں ان لوگوں کے لئے خوشخبری ہے جو کچھ کھوتے ہیں اور صبر کرتے ہیں اور دل کو تسلی دیتے ہیں کہ سب کچھ خدا کا تھا۔اس کی طرف چلا گیا تو کیا ہے ہم نے بھی تو اسی کی طرف جانا ہے ان کے لئے خوشخبری یہ بن جاتی ہے کہ تم نے کچھ کھویا ہے اس سے بہت زیادہ پا لو گے اور مخلوق کھوئی ہے تو خالق کو پالو گے اس لئے اس دعا کی گہرائی میں اتر کر اس کے سارے پہلوؤں پر غور کر کے خود بھی اس دعا سے فائدہ اٹھانا چاہئے اور اپنے بچوں کو بھی شروع ہی سے یہ دعا سکھانی چاہئے۔یہ سورۃ البقرہ کی آیت ۱۵۷ ہے۔ا اس کے بعد ایک دعا آل عمران کی رہ گئی تھی۔یہ آیات ۳۶ تا ۳۸ ہیں۔اس میں یہ ذکر ہے کہ اِذْقَالَتِ امْرَأَتُ عِمْرَنَ رَبِّ إِنِّي نَذَرْتُ لَكَ مَا فِي بَطْنِي مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلُ مِنِّي إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيْمُ ( آل عمران : ۳۶) که یاد کرو وہ وقت جبکہ آل عمران يدج کی ایک عورت نے اپنے رب سے یہ التجا کی کہ اے میرے رب ! جو کچھ میرے پیٹ میں ہے اسے آزاد کر کے میں نے تیری نذر کر دیا۔پس تو میری طرف سے جس طرح ہوا سے قبول فرمالے۔یقینا تو ہی بہت سننے والا اور بہت جاننے والا ہے۔یہ دعا وہ دعا ہے جس کی روشنی میں میں نے وقف نو کی تحریک کی تھی اور یہ تحریک کی تھی کہ عورتیں جو امید رکھتی ہیں یا آئندہ توقع رکھتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی گود بھرے گا۔وہ بچے کی پیدائش سے پہلے اسے وقف کریں۔میرے ذہن میں یہ بات تھی کہ عام طور پر اس سے پہلے جتنی وقف کی تحریکیں ہوئی ہیں ان میں عورتوں کے وقف کے لئے کوئی گنجائش نہیں تھی اور یہ ہماری خواتین پر بہت زیادتی ہے کہ ان کے لئے وقف کا کوئی نظام ہی نہ ہو گویا یہ نعمت صرف مردوں ہی کے لئے رہ گئی ہے۔پس اس آیت سے مجھے یہ روشنی ملی کہ اگر مائیں یہ عہد کریں کہ میرے پیٹ میں جو کچھ ہے اے خدا ! میں تیرے حضور پیش کرتی ہوں۔پھر جو لڑکی ہوگی وہ بھی وقف ہوگی اور بعض دفعہ ایسی وقف لڑکی لڑکوں سے بہت بہتر اور مقدر والی ثابت ہوتی ہے۔جیسا کہ حضرت مریم کے معاملہ میں ہوا جو آل