خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 437 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 437

خطبات طاہر جلد ۱۰ 437 خطبہ جمعہ ۷ ارمئی ۱۹۹۱ء لیکن برابری مقصود نہیں ، کچھ اور مضامین بھی ہیں۔ایک تعلق بہر حال درود شریف کا اس آیت میں من مذکور دعا سے ہے۔وَاجْعَلْ لِي لِسَانَ صِدْقٍ فِي الْآخِرِينَ ) (الشعراء:۸۵) کہ اے خدا! الله علية آخرین میں میرا ذکر خیر ، سچائی کا ذکر جاری ہے اور چونکہ آخرین کا زمانہ آنحضرت علی کو عطا ہونا تھا کیونکہ قیامت تک کے لئے آخرین کا دور آپ کا دور تھا اس لئے اگر آپ کی امت میں آپ کا ذکر خیر سچائی کے ساتھ جاری نہ رہتا تو یہ دعا قبولیت کا سب سے بڑا ثبوت وہ وہ درود ہے جو حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ نے ہمیں سکھایا وَ اجْعَلْنِي مِنْ وَرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيمِ (الشعر ہ ۸۶) اور اے اللہ! مجھے نعمتوں والی جنت کے وارثوں میں سے بنا۔جنت تو خود ہی نعمت ہے۔پھر یہ کیا مطلب کہ مِنْ وَرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيمِ تو حقیقت یہ ہے کہ جنت کے بھی مختلف درجے ہیں۔ایک جنت نعیم ہے۔جَنَّةِ النَّعِيمِ کے معنی میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ وہ جنت ہے جس میں انبیاء شامل ہوتے ہیں کیونکہ ویسے تو سب نعمتوں والے خواہ وہ صالح ہوں۔خواہ شہید ہوں ، خواہ صدیق ہوں یا نبی ہوں جنت میں جائیں گے اور ان معنوں میں ہر جنت جَنَّةِ النَّعِيمِ کہلا سکتی ہے مگر النعیم کے اندر ایک اور معنی پیدا کر دیتا ہے یعنی وہ جنت جوان لوگوں کی جنت ہے جن کو کامل نعمت عطا ہوئی اور کامل نعمت انبیاء کو عطا ہوتی ہے پس ہر گز بعید نہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلواۃ والسلام نے ان معنوں میں یہ دعا کی ہو کہ مجھے جنت میں بھی انبیاء کے زمرے میں رکھنا اور وہ جنت عطا کرنا جس میں کامل طور پر تجھ سے انعام یافتہ لوگ شامل ہوں۔پس آپ دیکھیں کہ اس دعا کا سورۃ فاتحہ کی اس دعا سے کتنا گہرا رابطہ ہے کہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ پس منعم علیہ میں شامل ہونا ہے تو منعم علیہ گروہ کی وہ ساری دعائیں پیش نظر رہنی چاہئیں جو ہماری زندگی کے مختلف حالات پر اطلاق پاتی چلی جاتی ہیں۔پھر حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام عرض کرتے ہیں۔وَاغْفِرْ لِأَبِي إِنَّهُ كَانَ مِنَ الضَّالِّينَ (اشعره: ۸۷) کہ اے میرے رب ! میرے باپ کو بھی بخش دینا۔میں جانتا ہوں کہ وہ گمراہ تھا اس کے باوجود تجھ سے یہ عرض کر رہا ہوں۔اس کے متعلق یہ ذکر گزر چکا ہے کہ حضرت ابراہیمؑ نے چونکہ ازر سے یہ وعدہ کرلیا تھا کہ میں تیرے لئے ضرور دعا کروں گا اس لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو بطور خاص یہ اجازت فرمائی کہ وہ اپنے اس وعدے کو پورا