خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 435
خطبات طاہر جلد ۱۰ 435 خطبہ جمعہ کے ارمئی ۱۹۹۱ء مجھے کھلی کھلی روشن ، امتیازی ہدایت عطا فرما۔وَ اَلْحِقْنِی بِالصّلِحِينَ اور مجھے صالحین میں شمار فرمالے صالحین کے ساتھ میرا تعلق قائم فرمادے۔وَاجْعَلْ لِي لِسَانَ صِدْقٍ فِي الْآخِرِيْنَ اور بعد میں آنے والوں کی زبان پر میرا ذ کر سچائی کے ساتھ چلے۔یہ دعا بہت ہی معنی خیز ہے۔حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے جتنی گہری اور جتنی بلند صفات سے نوازا تھا اور جس طرح آپ کے ذہن میں باریک در بار یک مضامین نازل فرمائے جاتے تھے ان کا اظہار آپ کی دعاؤں سے ہوتا ہے۔اپنی دعاؤں کے آئینے میں ہمیں حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کا دل دکھائی دینے لگتا ہے، آپ کی طرز فکر دکھائی دینے لگتی ہے۔عام طور پر لوگ آئندہ زمانوں میں اپنی شہرت چاہتے ہیں اور امر واقعہ یہ ہے کہ دنیا کے جتنے ہیرو Hero ہیں وقت گزرنے کے ساتھ ان کا ذکر چلتا ہے اور بلند ہوتا رہتا ہے اور اس میں کئی قسم کے فرضی قصے بھی داخل ہونے لگ جاتے ہیں۔پس جس کو ہم Legendary Figures کہتے ہیں وہ انسان جو اپنے اپنے وقتوں میں ہیرو شمار ہوئے بہت بلند مقام تک پہنچے وہ بالآخر Legend بن جاتے ہیں اور ان کے متعلق قصے کہانیاں، افسانے مشہور ہو جاتے ہیں اور بسا اوقات یہ دیکھا گیا ہے کہ ان کے حقیقی وجود سے بہت بڑھ کر ان کی طرف اعلیٰ صلاحیتیں منسوب ہونے لگتی ہیں اسی کے نتیجے میں بہت سے انبیاء کو خدا یا خدا کا بیٹا یا اس کا قریبی بتا دیا گیا اور یہ وہ طبعی رجحان ہے جس نے سلسلہ ہائے مذاہب کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔دیکھیں حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ آپ کی قوم نے کیا سلوک کیا ہے۔اسی طرح حضرت کرشن کے ساتھ حضرت رامچند رجی کے ساتھ اور بہت سے بزرگ انبیاء ایسے گزرے ہیں جن کو وقت کے گزرنے کے ساتھ بہت بڑے مقامات اور مرتبے عطا کئے گئے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام بلند مرتبہ نہیں مانگ رہے۔آنے والی نسلوں سے یہ توقع نہیں رکھتے کہ وہ آپ کی حمد وثناء میں مصروف رہیں اور آپ کی تعریف میں بڑے بڑے قصیدے کہیں کیسی عمدہ دعا ہے: وَاجْعَلْ لِي لِسَانَ صِدْقٍ اے میرے رب میرے متعلق تو آئندہ جو بات بھی ہو سچی ہو۔اس میں جھوٹ کی ادنی سی ملونی بھی نہ ہو۔اب آپ دیکھیں کہ کس شان کے ساتھ حضرت ابراہیم کے حق میں خدا تعالیٰ نے اس دعا کو قبول فرمایا ہے۔کتنا بلند مرتبہ آپ کو عطا کیا گیا۔ابوالانبیاء کہلائے اور آج