خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 431
خطبات طاہر جلد ۱۰ 431 خطبہ جمعہ کے ارمئی ۱۹۹۱ء ڈرتے ہیں کسی سے نہیں ڈرتے تو ہم پر جو چاہے عذاب نازل کر ہم نے تو صداقت کو دیکھ لیا اور پہچان لیا اس لئے اب ہم اس صداقت سے پھرنے والے نہیں ہیں۔پس دنیا کے عذاب اور دنیا کی طعن و تشنیع اور دنیا کے تمسخر کے نتیجے میں ایک طرف انسانوں کا خوف پیدا ہوتا ہے اس خوف سے صرف خدا کا خوف انسان کو بچا سکتا ہے اگر وہ دل پر غالب ہو۔پس ان دوخوفوں کے درمیان عباد الرحمن کیا فیصلہ کرتے ہیں۔ان کا ذکر چل رہا ہے، فرمایا ان کا فیصلہ یہ ہوتا ہے کہ وہ راتوں کو اٹھتے ہیں اور دعائیں کرتے ہیں اور سجدے کرتے ہیں۔خدا کے حضور کھڑے ہو جاتے ہیں اور عرض کرتے ہیں وَالَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ اے اللہ ہمیں عذاب جہنم کا زیادہ خوف ہے اس لئے اس عذاب کو ہم سے ٹال سے۔اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًان کیونکہ جہنم کا عذاب جو ہے وہ تو بہت بڑی تباہی ہے دنیا کے عذاب تو اس کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔نَّهَا سَاءَتْ مُسْتَقَرًّا وَ مُقَامًا کہ وہ عارضی طور پر بھی بہت برا ہے اور مستقل ٹھکانے کے طور پر تو بدتر ہے۔عارضی طور پر کہہ کر دراصل دنیا کے عذاب کی طرف اشارہ فرما دیا اور بتایا کہ جس عذاب سے تم بھاگتے ہو وہ تو عارضی ہے اور جس عذاب کی طرف تم اس کے نتیجے میں جاسکتے ہو وہ ایک مستقل عذاب ہے لیکن عارضی حیثیت سے بھی دنیا کے عذاب کے مقابل پر آخرت کا عذاب بہت زیادہ سخت ہوگا یعنی اگر محض عارضی بھی ہو تب بھی دنیا کیعا رضی عذاب کو وہ آخرت کے عذاب پر ترجیح دے دیتے ہیں یعنی ( آخرت) کے اس عذاب کو قبول نہیں کرتے اور دنیا کے عذاب کو قبول کرنے کے لئے آمادہ ہو جاتے ہیں۔پس إِنَّهَا سَاءَتْ مُسْتَقَرًّا وَ مُقَامًا اس کے یہ معنی ہیں کہ اے خدا! ہمیں تو تیرے عذاب سے اتنا ڈرلگتا ہے کہ ہم تجھ سے ہی پناہ مانگتے ہیں وہ عذاب جو تیری طرف سے آئے اگر تھوڑا بھی ہو تو وہ بہت زیادہ تباہ کن ہوتا ہے اور نا قابل برداشت ہوتا ہے۔پھر یہی عِبَادُ الرَّحْمٰن اپنی اولاد کے لئے اور اپنے اہل وعیال کے لئے دعائیں کرتے ہیں۔وَالَّذِيْنَ يَقُولُونَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ واجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا (الفرقان: ۷۵) کہ اے ہمارے رب! ہمیں اپنی جناب سے اپنے ازواج کی طرف سے وَذُرِّيَّتِنَا اور اپنی اولادوں کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما۔واجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ اِمَامًا اور ہمیں متقیوں کا امام بنانا۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بعض لوگ