خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 432 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 432

خطبات طاہر جلد ۱۰ 432 خطبہ جمعہ ۷ ارمئی ۱۹۹۱ء ازواج سے مراد صرف بیویوں کو لیتے ہیں اور تفسیر صغیر میں بھی یہی ترجمہ ہے کہ ہم کو ہماری بیویوں کی طرف سے اور اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما۔یہ ترجمہ کرنے کی وجہ غالبا یہ بنی کہ شروع میں یوں معلوم ہوتا ہے جیسے مردوں سے متعلق بات ہورہی ہے۔عبادالرحمن خدا کے بندے اور وَالَّذِينَ يَقُولُونَ میں بھی مردوں کا ذکر ہے کہ وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں لیکن درحقیقت خدا تعالیٰ نے جہاں مردوں کے صیغے میں بات کی ہے وہاں مومن عورتیں شامل ہیں اور ان کو اس خطاب سے نکالنے کا ہمیں کوئی حق نہیں کیونکہ یہ نہ صرف عربی طرز کلام ہے بلکہ دنیا کی دوسری قوموں میں بھی جب ہم بنی نوع انسان کا ذکر کرتے ہیں تو بسا اوقات مردوں کے صیغے میں بات ہو رہی ہوتی ہے اور مردوں میں عورتیں بھی ہوتی ہیں۔بڑے اور چھوٹے سب اس میں شامل ہوتے ہیں تو طرز کلام یہ ہے جو آسان ہے کہ ایک ہی صیغے کا ذکر ہو جائے اور اس میں جنس کی ہر قسم کے ہر نوع کے افراد اس جنس میں شامل ہو جائیں۔پس وَالَّذِيْنَ يَقُولُونَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا میں مردوں ہی کو صرف دعا نہیں سکھائی گئی ، عورتوں کو بھی دعا سکھائی گئی ہے اور ان کو اسی طرح دعا کرنی چاہئے کہ هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّتِنا کیونکہ زوج کا مطلب بیوی نہیں ہے۔زوج کا لفظ میاں اور بیوی دونوں پر برابر اطلاق پاتا ہے اس لئے عورتوں کو اس دعا کو تبدیل کرنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں وہ اس مضمون میں شامل ہیں اور دعا کے اندر ایسے بھی زوج کے تحت ان کے خاوند شامل ہو جاتے ہیں۔پس اب اس دعا کا معنی یہ ہوگا کہ اے خدا! ہمیں زندگیوں کے ساتھیوں سے خواہ وہ مرد ہوں خواہ عورتیں ہوں، آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہماری اولاد کی طرف سے ہمیں آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما۔وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ اِمَامًا اور ہمیں متقیوں کا امام بنانا۔ایسی نسل پیچھے چھوڑنے کی ہمیں توفیق عطا فرما جو تیری نظر میں متقی ہوں۔یہ دعا ہے جس کے نتیجے میں ہمارے گھروں کے ماحول سدھر سکتے ہیں۔جو خطوط مجھے ملتے ہیں، بلا استثناء ان میں روزانہ کچھ خطوط ضرور ایسے ہوتے ہیں جن میں گھریلو زندگی کی ناچاقیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے عذاب کا ذکر ہوتا ہے اور ایسے خطوط بعض دفعہ بچوں کی طرف سے بھی ملتے ہیں۔بچے لکھتے ہیں ہمارے ماں باپ کی آپس میں ناچاقیاں ہیں۔آپس میں ایک دوسرے کے