خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 429
خطبات طاہر جلد ۱۰ 429 خطبہ جمعہ کے ارمئی ۱۹۹۱ء هَمَزْتِ کا اول ترجمہ وساوس ہیں اور کئی قسم کے برے خیالات ہیں: اور دراصل شیاطین کی شرارتوں سے ان کا گہرا تعلق ہے اسی لئے حضرت مصلح موعودؓ نے اس موقعہ پر اس کا ترجمہ شرارتیں کر دیا۔ایسے دور جن میں مخالفین کو خاص طور پر غلبہ نصیب ہواور وہ مومنوں سے جس طرح چاہیں سلوک کریں ، اسی دور میں ان شرارتوں کے نتیجے میں وساوس پیدا کئے جاتے ہیں اور اپنے موقف سے مومنین کو ہٹانے کے لئے طرح طرح کے وسوسے پھیلائے جاتے ہیں کہ دیکھوا گر تمہارا خدا ہوتا ، اگر تم سچے ہوتے جس پر تم ایمان لائے ہوا گر وہ واقعی خدا نے بھیجا ہوتا تو آج تم کیوں بے سہارا چھوڑے جاتے ، کیوں تم آج ہمارے رحم و کرم پر ڈالے گئے۔پس شرارتوں کے ساتھ وساوس کا گہراتعلق ہے اور ہم نے گزشتہ ابتلاء کے دور میں پاکستان میں (جو ابھی بھی جاری ہے ) خاص طور پر یہ دیکھا ہے کہ پہلے احمدیوں کو ظلموں کا نشانہ بتایا جاتا ہے، طرح طرح کی شرارتیں کی جاتی ہیں اور پھر خود ظلم کرنے والے یہ کہتے ہیں کہ دیکھو ہم تو تم پر ظلم کر رہے ہیں اور ہمارا کچھ نہیں ہو رہا اس لئے ہم بچے ہیں تم جھوٹے ہو اور بعض نادان اور جاہل کچھ ظلموں سے تنگ آکر کچھ اپنی کم نہی کی وجہ سے اس دلیل کو مان جاتے ہیں حالانکہ شیطان اور ظلم کرنے والا سچا ہو ہی نہیں سکتا۔جو شخص ظلم سے کام لے رہا ہے اس ظلم کے نتیجے میں اس کی سچائی کیسے ثابت ہوگئی۔ظالم تو بہر حال جھوٹا ہے۔اسی لئے قرآن کریم نے اس کا ذکر شیاطین کے طور پر فرمایا ہے کہ یہ عجیب باغی اور شیطان لوگ ہیں۔ایک طرف مومنوں کو دکھ دیتے ہیں اور پھر انہی دکھوں کو ان کے ایمان کو متزلزل کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں تو اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو یہ دعا کر کہ ربِّ اَعُوذُ بِكَ مِنْ هَمَرْتِ الشَّيْطِيْنِ مِیں شیاطین کے ہر قسم کے شر اور ان شرور کے نتیجے میں پیدا ہونے والے وساوس سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔وَاَعُوذُ بِكَ رَبِّ اَنْ تَحْضُرُونِ بلکہ میں تو یہ پناہ مانگتا ہوں کہ ہم تک ان کی رسائی ہی نہ ہو۔نہ وہ ہم تک پہنچ سکیں نہ ان کے وساوس اور ان کے نشر ہمیں چھوئیں۔ایک دعا سورۃ المومنون آیت ۱۱۰ میں درج ہے۔یہ خدا کے ان نیک بندوں کی دعا ہے جو دوزخیوں کے مقابل پر جب وہ ان سے تمسخر کیا کرتے تھے تو وہ دعا مانگا کرتے تھے۔اس وقت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اِنَّهُ كَانَ فَرِيقٌ مِّنْ عِبَادِي يَقُولُونَ (المومنون : ۱۱۰) میرے بندوں میں سے ایک گروہ ایسا تھا کہ جب ان پر ظلم ہوئے ان سے تمسخر کا سلوک ہوا تو وہ یہ کہا کرتے تھے۔