خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 426
خطبات طاہر جلد ۱۰ 426 خطبہ جمعہ ۷ ارمئی ۱۹۹۱ء اس موقعہ پر ایک سوال اٹھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود ہی قبول کرنی ہیں۔پھر خود ہی دعائیں کیوں سکھاتا ہے۔اس میں کیا حکمت ہے؟ اور یہ جو طر ز مسلسل چل رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء کو ایک طرف دعا سکھاتا ہے اور دوسری طرف اس کی قبولیت کا اعلان فرما دیتا ہے۔اس مسئلے کو سمجھنے کے لئے دراصل اپنے بچوں سے اپنے تعلقات پر نظر ڈالنی چاہئے۔وہ پیارے پیارے بچے جن کو ابھی پوری طرح خود شعور نہیں ہوتا ، بہت سی باتیں کرنے کا سلیقہ نہیں ہوتا۔والدین جو پہلے سے ہی کچھ دینے پر تیار بیٹھے ہوتے ہیں۔انہیں پہلے مانگنے کے طریقے بتاتے ہیں اور کئی طرح سے پیار کے رنگ میں ان کو کہتے ہیں کہ تم ہم سے یہ مانگو، اس طرح مانگو اور پھر جیب پہلے ہی بھری ہوتی ہے۔ہاتھ مچل رہے ہوتے ہیں کہ ادھر سے وہ مانگے اور ادھر ہم اس کو عطا کر دیں تو یہ پیار کے خاص انداز ہیں۔پس انبیاء کو جو دعائیں سکھائی جاتی ہیں یہ اللہ تعالیٰ کے محبت کے اظہار کے رنگ ہیں اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء اپنی طرف سے کچھ بھی نہیں کرتے کلیۂ خدا ہی کے ہاتھوں میں پلتے ہیں۔جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا۔ابتداء سے تیرے ہی سایہ میں میرے دن کئے گود میں تیری رہا میں مثل طفل شیر خوار پس ایک طفل شیر خوار کی طرح انبیاء کی کیفیت ہوتی ہے۔ماں باپ کی گود میں اور ہاتھوں میں کھیلتے اور انہیں سے باتیں سیکھتے ہیں اور وہی باتیں ان (در نشین صفحہ ۱۲۶) کو سکھائی جاتی ہیں جو سکھانے والے کو مقبول نظر ہوں، اس کو پیاری لگتی ہوں پس اس رنگ میں ہماری تربیت کے بھی سامان ہو گئے جن سے براہ راست خدا کا تکلم نہیں ہوتا اور بعد میں آنیوالی نسلوں پر اللہ تعالی کا کتنا بڑا احسان ہے کہ وہ باتیں جن کے ہم حقدار نہیں کہ خدا ہمیں براہ راست سکھائے ، اپنے پیارے انبیاء کو سکھا کر ، ان کا ذکر محفوظ کر کے ہمیں بھی وہ طریقے بتا دیئے۔پس آنحضور ﷺ کو آپ کے دشمنوں کا جو انجام دکھانا تھا وہ تو مقدر تھا اس کے فیصلے ہو چکے تھے مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس رنگ میں یہ دعا سکھائی کہ گویا آپ کی طلب پر عطا ہو رہا ہے اور طلب پر عطا ہونے میں اپنی ایک لذت ہے فرما دی که اور پھر معاً بعد بلا توقف اطلاع وَإِنَّا عَلَى أَنْ تُرِيَكَ مَا نَعِدُهُمْ لَقَدِرُونَ کیوں نہیں میرے بندے ہم ضرور اس