خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 413 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 413

خطبات طاہر جلد ۱۰ 413 خطبہ جمعہ ارمئی ۱۹۹۱ء سے بہت زیادہ اونچی تو قعات ہوتی ہیں پس خدا تعالیٰ نے حضرت یونس کو یہ سبق دینا تھا کہ جب خدا تعالیٰ چاہے اس صورتحال کو بالکل الٹ سکتا ہے پس۔اب آپ کشتی کی طرف آئیں، ایک بھری ہوئی کشتی تھی ، وہاں حضرت یونس کے سوا سارے گنہگار تھے لیکن خدا تعالیٰ نے ان سب گنہ گاروں کو بچالیا یعنی بظاہر اور جو سب سے معصوم انسان تھا اس کو ہلاکت کی طرف با ہر پھینکوادیا اور جو بھی اس پہلے شہر میں واقعہ گزرا تھا اس سے بالکل الٹ مضمون ہو گیا وہاں حضرت یونس ایک بھرے ہوئے شہر کو چھوڑ کر جارہے تھے ، جس سارے شہر کو خدا کی تقدیر نے ہلاک کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا اور صرف یہ ایک معصوم انسان تھا جسے نجات کی خبر دی گئی تھی اور کشتی کی حالت یہ تھی کہ وہ گنہگاروں سے بھری ہوئی تھی اور خدا کی تقدیر یہ کہہ رہی تھی کہ ان سب کو میں معاف کرتا ہوں اس نیک بندے کو یہاں سے نکالا جائے جس نے مجھ پر بدظنی کی ہے اور اسے ہلاکت کے منہ میں ڈال دیا جائے۔چنانچہ مچھلی نے آپ کو نگل بھی لیا، وہاں ظلمات کا لفظ استعمال کرنا ، اس سے بھی پتا چلتا ہے کہ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے سکھائی ہوئی دعا تھی۔بہت ہی فصیح و بلیغ کلام ہے۔فَنَادَى فِي الظُّلُمَتِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَنَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّلِمِينَ ایک ظلمت کا کام اس سے سرزد ہوا تھا ، ساری زندگی نور میں کئی اور ہلکا سا ظلمت کا سایہ آیا جو اس نے خدا تعالیٰ پر بدظنی کر لی۔اس کے نتیجے میں وہ ظلمات میں گھر گیا۔فَنَادَى فِي الظُّلُمتِ کئی قسم کے اندھیروں میں اس نے بے اختیار یہ دعا کی۔لَا إِلَهَ إِلَّا انت اے خدا تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے سبحنك تو ہی پاک ہے۔اِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّلِمِینَ میں ہی ظالم انسانوں میں سے تھا اور ظلمت اور ظلم یہ دونوں ایک ہی منبع سے نکلے ہیں اور دونوں ہم معنی ہیں۔ظلم کا مطلب گناہ بھی ہے اوراندھیرا بھی ہے۔پس اس دعا کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو دوبارہ نجات بخشی اور یہ فرمایا۔فَلَوْلَا أَنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِيْنَ میں نے جو یونس کو معاف کیا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کی ساری زندگی تسبیح وتحمید میں گزری تھی۔پس خدا تعالیٰ اپنے بندوں کی سابقہ نیکیوں کو بھی ہمیشہ پیش نظر رکھتا ہے اگر چہ غلطی بہت بڑی ہی کیوں نہ ہوئی ہو جو خدا توقع رکھتا ہے اس کے خلاف انسان سے بعض دفعہ کوئی ایسی غلطی سرزد ہو جاتی ہے جس سے گویا اس کا پچھلا سا را اعمال نامہ سیاہ شمار کر لیا جاتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نیک بندوں کی نیکیوں کو اس طرح بھلا نہیں دیا کرتے ، وہ ہمیشہ