خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 408
خطبات طاہر جلد ۱۰ 408 خطبہ جمعہ ارمئی ۱۹۹۱ء مطابق خدا تعالیٰ نے آپ کے لئے ایک بیل دار درخت اگایا، جس کی چھاؤں میں آپ نے امان حاصل کی لیکن پھر ایک کیڑا بھیج دیا جس نے اس کی جڑیں کھا لیں اور وہ درخت کھوکھلا ہو کر زمین پر جا پڑا۔تب حضرت یونس نے ایک اور شکوہ کیا کہ یہ کیا واقعہ ہو گیا کہ ایک چھاؤں تھوڑی سی تھی اس سے بھی محروم رہ گیا اللہ تعالیٰ نے پھر ان کو کہا کہ یہ درخت تو نے نہیں لگایا تھا اور اس ایک درخت کے مرنے پر تجھے اتنا افسوس ہے جس کے لگانے میں تیری محنت کا کوئی دخل نہیں اور مجھ سے یہ توقع رکھتا ہے کہ لاکھ سے زائد بندے جو میں نے پیدا کئے ان کو آنا فانا تباہ کر دوں۔تب حضرت یونس کو یا یونا کو نصیحت حاصل ہوئی۔قرآن کریم اس سے بالکل مختلف روایت بیان فرماتا ہے سب سے پہلے یہ کہ قرآن کریم میں نینوا بستی کا کوئی ذکر نہیں اور مفسرین نے بائیبل کو پڑھ کر اندازہ لگایا کہ بستی نینوا ہی ہوگی بعضوں کا خیال ہے ذوالنون یعنی نون والا جو کہا گیا ہے اس سے نینوا بستی والا مراد ہے حالانکہ نون، مچھلی کو کہتے ہیں اور صاحب الحوت بھی آپ کو قرار دیا گیا ہے اس لئے پہلی بات تو یہ ہے کہ نینوا کا کوئی ذکر نہیں۔دوسرے ایک اور اہم بات یہ ہے کہ اگر نینوا سے ناراض ہو کر آپ واپس جائیں تو سات آٹھ سو میل ر جا کر یافا کی بندرگاہ سے کیوں جہاز پکڑیں۔آپ کے ساتھ ہی دریائے دجلہ تھا نینوا کی بستی دریائے دجلہ کے ایک کنارے پر واقع ہے۔وہاں سے کشتی لے کر آپ جو بھی سفر اختیار کرنا چاہتے اختیار کر سکتے تھے اس لئے یہ بات بھی قرین قیاس نہیں ہے۔پس بائیل کے بیان کے برعکس قرآن کریم نے اول تو اس بستی کا ذکر نہیں فرمایا دوسرے جو واقعہ بیان فرمایا ہے وہ بہت ہی معقول اور مربوط ہے اور اس میں کسی قسم کے اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں۔خصوصیت کے ساتھ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ قرآن کریم نے آپ کے تین دن اور تین رات مچھلی کے پیٹ میں رہنے کا کوئی ذکر نہیں فرمایا۔یہ فرمایا ہے کہ مچھلی نے آپ کو نگلا اور یہ بھی فرمایا ہے کہ آپ نے اس تکلیف اور دکھ کی حالت میں یہ دعا کی ہے اور ساتھ ہی یہ بتادیا کہ مچھلی نے اگل دیا، لیکن یہ کہیں ذکر نہیں کہ تین دن اور تین رات آپ مچھلی کے دور پیٹ میں رہے تھے۔پس یہ زیادہ قرین قیاس ہے کہ آپ کچھ عرصہ کے لئے وہاں رہے ہوں۔اس بات کی وضاحت کی اس لئے خصوصیت سے ضرورت پیش آئی ہے کہ عموماً احمدی ، عیسائیوں کے ساتھ گفت وشنید کرتے وقت اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ جیسا کہ