خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 407 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 407

خطبات طاہر جلد ۱۰ 407 خطبہ جمعہ ارمئی ۱۹۹۱ء نبی کو مشرقی علاقے میں کسی شہر میں جانے کا حکم دے اور وہ اس طرف پیٹھ کر کے مغرب کی طرف روانہ ہو جائے اور خدا کے حکم کا انکار کر کے کسی اور جگہ کا رخت سفر باندھے کسی اور جگہ کی تیاری کر لے۔یہ تو شان نبوت کے بالکل خلاف بات ہے، ہو ہی نہیں سکتا کہ کوئی نبی ایسی کھلی کھلی خدا تعالیٰ کی نافرمانی کرے۔دوسرے وہ زمانہ وہ ہے جبکہ اسیریا کی عراق کے شمالی علاقہ میں بہت ہی زبر دست حکومت تھی اور یہ وہی زمانہ ہے جس میں اسیر مینز نے سب سے پہلے حملہ کر کے بنی اسرائیل کی حکومت کو پارہ پارہ کیا تھا۔پس تاریخی نقطہ نگاہ سے ناممکن دکھائی دیتا ہے کہ اس زمانے میں فلسطین کے کسی باشندے کو خدا تعالیٰ یہ حکم دے کہ (پانچسو میل تو سیدھا رستہ ہے ویسے زمینی سفر کر کے جو رستہ ہے وہ بہت لمبا بنتا ہے ) اتنا لمبا رستہ طے کر کے تم نینوا جاؤ اور وہاں جا کر ان کو دھمکاؤ۔پس یہ قرین قیاس بات دکھائی نہیں دیتی۔دوسرے یہ کہ نینوا بستی کے متعلق اس زمانے میں ایسی کوئی شہادت نہیں ہے کہ وہاں کسی نبی نے بھی کسی قسم کی منادی کی ہو اور اس کے نتیجے میں ساری بستی ایمان لے آئی ہو۔پس بائیبل کا قصہ کئی لحاظ سے قابل قبول نہیں ہے۔دوسرے بائیبل نے جو واقعات کی ترتیب بیان کی ہے وہ بھی عجیب و غریب ہے۔بائیبل کے مطابق حضرت یونس نے خدا کا انکار کرتے ہوئے نینوا کی طرف جانے کی بجائے یا فا سے کشتی پکڑی اور کسی اور جگہ کا رخ اختیار کیا۔سمندر میں طوفان آ گیا اور جب کشتی ڈوبنے کے قریب ہوئی تو لوگوں نے کہا کہ ہم میں کوئی گنہ گا رایسا ہے جس کی وجہ سے خدا تعالیٰ کا عذاب نازل ہونے لگا ہے۔اس وقت حضرت یونس نے اقرار کر لیا اور کہا کہ میں ہی وہ ہوں جس کی وجہ سے تم سب کی شامت آگئی ہے اس لئے بہتر یہ ہے کہ تم مجھے کشتی سے باہر پھینک دو۔چنانچہ ان کو کشتی سے باہر پھینک دیا گیا، وہاں ایک بڑی مچھلی نے آپ کو نگل لیا اور بائیبل کے بیان کے مطابق تین دن اور تین رات مسلسل آپ مچھلی کے پیٹ میں رہے۔پھر مچھلی نے آپ کو کسی جگہ اگلا۔وہاں سے پھر آپ واپس نینوا گئے اور اس طرح بالآخر خدا کی بات پوری کی۔نینوا جانے کے بعد بھی آپ نے حقیقت میں بچی تو بہ نہیں کی بلکہ نینوا والوں کو پیغام دیتے ہوئے یہ بھی کہتے تھے کہ مجھے پتا ہے کہ ان لوگوں نے تو بہ کر لینی ہے اور خدا نے معاف کر دینا ہے اور خواہ مخواہ میں بے عزت ہو جاؤں گا۔چنانچہ جب نینوا کو اللہ تعالیٰ نے تباہ نہیں فرمایا اور نینوا کے باشندوں نے توبہ کر لی تو حضرت یونس خدا تعالیٰ سے روٹھ کر وہاں سے پھر جنگل کی طرف چلے گئے۔وہاں بائیبل کے بیان کے