خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 404 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 404

خطبات طاہر جلد ۱۰ 404 خطبہ جمعہ ارمئی ۱۹۹۱ء دفعہ قول و قرار دے بیٹھے اس سے پیچھے ہٹنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ، تو اس طرح پختہ قول لینے کے بعد اس نے کہا کہ اپنا سب کچھ مجھے دیدو۔تمام جائیداد ، دولتیں ، اموال ، گھر جو کچھ تیرا ہے سب کچھ دیدے اور ہریش چندر نے دیدیا اس کے بعد اس نے کہا کہ تو نے سب کچھ نہ دیا۔ابھی تیرے بچے، بیوی ، تو خود ہے اور تیرا جسم ہے، اس کا کیا ہوگا۔چنانچہ یہ طے پایا کہ ان سب کو وہ بیچ دیں اور ایک شودر نے جو ہندو Cast System کے مطابق سب سے ذلیل قسم کی ذات ہے آپ کو خرید لیا اور پھر وہ مشقتوں کا دور ہوا اور بہت تکلیفیں ہوئیں۔مصائب در پیش ہوئے۔تو ملتی جلتی کہانی ہے۔حضرت مصلح موعود کا یہ رجحان ہے کہ چونکہ زمانہ بھی کم و بیش ایک ہی ہے اس لئے بعید نہیں کہ حضرت ایوب ایک ہندی نبی ہوں اور (جیسا کہ پہلے بھی میں نے بیان کیا ہے کہ بعض محققین کے نزدیک وہ اسرائیلی نہیں تھے ) اس ہندی نبی کی روایات وہاں پہنچی ہوں اور ان کو بائیبل کا حصہ بنادیا گیا ہو۔اس پس منظر میں اب میں قرآن کریم کی وہ دعا آپ کے سامنے رکھتا ہوں جواللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب کو سکھائی اور وہ تھی۔وَأَيُّوبَ إِذْ نَادَى رَبَّةَ أَنِي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّحِمِينَ یہاں اَرحَمُ الرّحِمِینَ پر دعا کو ختم کیا گیا ہے کہ تو سب رحم کر نیوالوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔حضرت ایوب کی حالت کے متعلق جو تفاصیل ہیں وہ ہمیں قرآن کریم میں نہیں ملتیں لیکن جتنے بھی اشارے ملتے ہیں ان سے پتا چلتا ہے کہ آپ کو بہت ہی تکلیفیں پہنچیں اور جسمانی عوارض بھی بہت لاحق ہوئے اور یہاں تک کہ آپ کو اپنا ملک چھوڑ کر بھی جانا پڑا چنانچہ منجملہ تفصیل کے ساتھ تو ذکر نہیں مگر یہ ضرور ملتا ہے کہ کچھ نہ کچھ واقعات جیسا کہ بیان کئے گئے ہیں ویسے آپ کے ساتھ ضرور پیش آئے یہاں تک کہ سب نے آپ کو چھوڑ دیا۔اَرْحَمُ الرّحِمِینَ کا مطلب ہے کہ اے خدا میری تو یہ حالت پہنچ گئی کہ دنیا کے جتنے رحم کرنے والے ہو سکتے ہیں وہ تو منہ موڑ کر چلے گئے۔میری بیوی نہ رہی ، میرے بچے نہ رہے، میرے شہر والے نہ رہے ، جو ایمان لائے تھے انہوں نے بھی کنارہ کشی اختیار کر لی۔اب میں اکیلا اپنے وطن سے نکلتا ہوں ، تو مجھے بتا کہ میں اکیلا کیا کروں۔لیکن ان سب باتوں کے باوجود میں مایوس نہیں ،تو أَرْحَمُ الرَّحِمین ہے۔جس پر کوئی اور رحم کر نیوالا نہ ہو اس پر تو رحم فرماتا ہے۔اس دعا کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فَاسْتَجَبْنَالَهُ فَكَشَفْنَا مَا بِهِ مِنْ ضُرِّ وَأَتَيْنَهُ أَهْلَهُ وَمِثْلَهُمْ