خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 403
خطبات طاہر جلد ۱۰ 403 خطبہ جمعہ " ارمئی ۱۹۹۱ء پورا اترا ہے اور جو کچھ تیرے نقصانات تھے وہ سب پورے ہو جائیں گے اور اب تو پہلی حالتوں کی طرف بلکہ ان سے بھی بہتر حالتوں کی طرف لوٹایا جائے گا۔پھر بیوی بھی ملتی ہے۔پھر اولا د بھی آتی ہے پھر اور جو شہر کے لوگ نکالنے والے تھے ان کے اندر بھی ندامت پیدا ہوتی ہے گویا کہ انجام اس واقعہ کا یہ ہے کہ حضرت ایوب دوبارہ اپنی صحت کی طرف بھی لوٹ آتے ہیں۔پرانی شان اور آن بان کی طرف بھی لوٹ آتے ہیں۔سب چھوٹے ہوئے ، روٹھے ہوئے ساتھی واپس آجاتے ہیں، یہ ہے خلاصہ اور مفسرین نے بھی کم و بیش یہی مضمون بیان کیا ہے لیکن بعض تبدیلیوں کے ساتھ اور بائیل نے یہ لکھا ہے کہ شیطان فرشتوں کے گروہ میں شامل ہو کر خدا کے حضور میں پیش ہوا اور اس طرح خدا سے اس نے گویا فرشتہ بن کر باتیں کیں اور یہ سارا قصہ اس کے نتیجہ میں پیدا ہوا۔مفسرین نے اس کو قبول نہیں کیا اور اس کو نیا رنگ یہ دیدیا ہے کہ اس زمانے میں یعنی کہ حضرت ایوب کے زمانے میں شیطان بعض دفعہ فرشتوں اور نبیوں کے درمیان باتیں سن لیا کرتا تھا مچان لگا کر بیٹھا رہتا تھا اور وہ باتیں سن لیا کرتا تھا۔تو ایک دفعہ فرشتوں کی اور حضرت ایوب کی باتیں ہورہی تھیں اور بڑی ان کی تعریف ہورہی تھی اور انہوں نے خدا سے عرض کیا کہ دیکھو کیسا نعمتوں والا بندہ ہے اور پھر اس کے باوجود عبادت کرتا ہے تو اس پر شیطان کو پتا چل گیا کہ یہ کیا ہورہا ہے۔چنانچہ اس نے پھر یہ شرارت شروع کی۔حضرت مصلح موعودؓ نے تفسیر کبیر میں ذکر کیا ہے کہ اس سے ملتا جلتا ایک دفعہ ہریش چندر ایک ہندو بزرگ کا بھی بیان کیا جاتا ہے جن کے متعلق یہ آتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اسی طرح انعام یافتہ تھے جس طرح حضرت ایوب کے ذکر میں ملتا ہے مگر وہاں شیطان کی بجائے بعض دیوتاؤں کو حسد پیدا ہوا حضرت مصلح موعودؓ نے تو تفصیل سے ذکر نہیں کیا مگر میں نے پھر ان روایات کو مختلف تاریخی حوالوں سے دیکھا ہے۔ہریش چندر کے متعلق مختلف روایات ملتی ہیں لیکن خلاصہ مختصراً یہی ہے کہ وہاں دیوتاؤں کو اس پر رشک آیا اور انہوں نے ہند و میتھالوجی کے مطابق سب سے بڑے خدا سے یہ کہا کہ ہمیں موقع دیں ہم اس کو آزمائش میں ڈالتے ہیں۔چنانچہ ایک دیوتا انسان کے روپ میں گیا، اس نے ہرلیش چندر سے کہا سنا ہے کہ تو بڑا سخی داتا ہے۔کیا میری استدعا کو قبول کرے گا؟ اس نے کہاہاں جو مانگے گا میں دوں گا اور ہریش چندر کے متعلق بھی یہ مشہور تھا کہ وہ حد سے زیادہ وعدے کا پختہ ہے اور جو ایک