خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 391
خطبات طاہر جلد ۱۰ 391 خطبه جمعه ۳ رمئی ۱۹۹۱ء طرح سمجھ رہے ہوں۔پھر عرض کیا وَ اجْعَلْ لِي وَزِيْرًا مِنْ أَهْلِی (طه:۳۰) لیکن میرے اہل میں سے ایک وزیر بھی میرا مقرر فرمادے۔طرُونَ آخی (طہ : ۳۱) یہ میرا بھائی ہارون ہے میں اس کی تجھ سے التجا کرتا ہوں اسدُدُ بِ ازْرِی (طہ:۳۲) اس کے ذریعہ میرا باز ومیری طاقت کو مضبوط فرما وَ اَشْرِكْهُ فِی اَمرِنی (طہ:۳۳) اور میرے ساتھ جو تو نے نیکی کا معاملہ کیا ہے اس میں اس کو بھی شریک کر دے۔پس دنیا میں تو انسان شریک نہیں چاہتا لیکن نیکیوں میں شریک چاہنے کی دعا ہمیں بتائی گئی ہے کہ یہ ایک ایسی دولت نہیں ہے جس کو تم اپنے تک محدود رکھو اور دوسروں تک پہنچانے سے بخل سے کام لو۔اس میں خدا تعالیٰ سے خود شریک مانگا کرو۔كَيْ نُسَبِّحَكَ كَثِيرًا ( ط :۳۴) اے خدا یہ اس لئے ہو کہ ہم سب مل کر پھر تیری خوب تسبیح کریں۔وَنَذْكُرَكَ كَثِيرًا (ط:۳۵) اور خوب تیرا ذ کر بلند کریں۔اِنَّكَ كُنْتَ بِنَا بَصِيرًا (طہ:۳۶) اے خدا تو ہمیں دیکھ رہا ہے۔اس دعا میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جو وزیر مانگا اس کی دلیل یہ دی کہ میں بول نہیں سکتا۔اگر چہ یہ دعا بھی ساتھ کی کہ اے خدا میری زبان کی گرہ کھول دے، مجھے بولنے کی طاقت عطا فرما اور صحیح بولنے کی طاقت عطا فرما میرا پیغام مخاطب خوب اچھی طرح سمجھ سکے اس کے باوجود اپنا ایک وزیر مانگا کیونکہ دل میں پوری طرح اطمینان نہیں تھا کہ میں اس حق کو ادا کر سکوں گا کہ نہیں۔اللہ تعالیٰ نے دونوں دعائیں قبول کر لیں۔وزیر تو بنا دیا لیکن اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ ضرورت اس کی کوئی نہیں اور بڑا دلچسپ مضمون پیدا ہوا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب ہم نے حکم دیا تو موسیٰ کی دعا کے نتیجہ میں دونوں کو حکم دیا۔کہا : اِذْهَبَا إِلى فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغَى (طہ:۴۴) اے موسیٰ اور اے موسیٰ کے بھائی ! تم دونوں فرعون کی طرف جاؤ اس نے بہت ہی سرکشی سے کام لیا ہے فَقُولَا لَهُ قَوْلًا لَّينا (طہ: ۴۵) اور تم دونوں اس سے بات کرتے ہوئے نرمی کی بات کرنا کیونکہ وہ دنیا کا ایک بہت بڑا انسان ہے اور سخت کلامی سے وہ بات سمجھ نہیں سکے گا۔یہاں قول لین کہنے کی کیا ضرورت تھی حقیقت میں یہ حضرت موسیٰ کی دعا کا جواب ہے حضرت موسیٰ نے عرض کیا تھا يَفْقَهُوا قَوْلِی اے خدا! ایسی بات کہنے کی توفیق عطا فرما کہ وہ سمجھ جائیں پس قول لین کسی فرعون کے رعب کی وجہ سے نہیں ہے، اس کے خوف کی وجہ نہیں ہے بلکہ انسانی فطرت کا یہ راز کھولا جارہا ہے کہ جب تم بڑے آدمیوں سے بات کرو تو اگر تم اکثر کر بات کرو گے