خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 390 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 390

خطبات طاہر جلد ۱۰ 390 خطبه جمعه ۳ رمئی ۱۹۹۱ء اپنے طبعی تقاضے کی وجہ سے بس اس تمنا میں مررہے ہوتے ہیں کہ ہم بے اولا دمرے جاتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے جن انبیاء کی دعائیں ہمارے لئے محفوظ رکھی ہیں۔جن بزرگ خواتین کی دعائیں ہمارے لئے محفوظ فرما ئیں وہاں ہمیشہ ایسی اولاد کی تمنا کی گئی ہے جو نیک ہو، جو خدا اوالی ہو، جو بزرگوں کے ولی بننے کی اہلیت رکھتی ہو، اور جو اپنے بزرگ والدین کی نیکیاں ورثے میں پانے والی ہو۔پس احمدیوں کو بھی جو اولاد کی نعمت سے محروم ہیں اس جذبہ کے پیش نظر اسی سنت کے مطابق دعائیں کرنی چاہئیں، اور ہمیشہ نیک اولاد کی دعا کرنی چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں اس کے سوا اولاد کی جو دعائیں ہیں سب مردود اور دنیا کے قصے ہیں ان کی کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔اب ایک دعا حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بیان کر کے پھر میں سر دست اس مضمون کو یہاں ختم کروں گا، کیونکہ آج خدام کا اجتماع ہے اور ، اور بھی یہاں بہت سے پروگرام ہونے والے ہیں۔باقی مضمون انشاء اللہ بعد میں جاری رہے گا۔حضرت موسیٰ کی یہ دعا قرآن کریم میں مذکور ہے۔قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِى (طہ: ۲۶) اے میرے اللہ میرا سینہ کھول دے۔اے میرے رب میرا سینہ کھول دے۔وَيَسر لی امری (طہ:۲۷) اور جو فریضہ تو نے مجھ پر عائد فرمایا ہے اسے آسان کر دے۔داعیین الی اللہ جو خدا تعالیٰ کی راہ کی طرف بلانے کیلئے نکلتے ہیں ان کیلئے یہ دعا ایک نعمت غیر مترقبہ ہے۔ایک عظیم الشان نعمت ہے۔اس دعا کو ذہن میں رکھ کر اور اسی طرح یہ دعا کرتے ہوئے جس روح اور جذبے کے ساتھ حضرت موسیٰ نے یہ دعا کی تھی، اگر کوئی داعی الی اللہ وقت کے بڑے بڑے جابر کو بھی دعوت دینے کیلئے نکلےگا تو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اس کو شرح صدر عطا ہوگا۔اس کی زبان کھول دی جائے گی اس کی مشکلات آسان کی جائیں گی اور اس جابر کے خوف سے اس کو بچایا جائے گا۔وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِنْ لِسَانِي (ط:۲۸) کہ مجھے سے تو صحیح گفتگو نہیں ہوتی۔میں تو تتلاتا ہوں اور اٹک کر بولتا ہوں اور وقت کے ، اس زمانے کے سب سے بڑے جابر کے پاس تیرا پیغام لے کر جارہا ہوں تو تو ہی ہے جو میری زبان کی گرہ کشائی فرما اور اس گرہ کو کھول دے يَفْقَهُوا قَوْلِي (طہ: ۲۹ ) اور ایسی فصاحت کلام عطا کر کہ جو میں کہوں اس کو خوب اچھی طرح وہ لوگ سمجھنے لگیں۔صرف میں بات ہی نہ کرنے والا ہوں بلکہ وہ بات ذہنوں سے دلوں تک اتر جانے والی ہو اور وہ خوب اچھی