خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 389
خطبات طاہر جلد ۱۰ 389 خطبہ جمعہ ۳ رمئی ۱۹۹۱ء ساختہ جواب دیا ہے کہ يُزَكَرِيَّا إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلِمٍ (مریم:۸) اے میرے بندے ذکر یا ہم تجھے ایک غلام کی خوشخبری دے رہے ہیں اسمہ یحیی اس کا نام یہی ہوگا لَمْ نَجْعَل لَّهُ مِنْ قَبْلُ سَمِيًّا اس نام کی کوئی مثال اس سے پہلے دکھائی نہیں دیتی۔دنیا میں کبھی کسی نے اپنے بیٹے کا یہ نام نہیں رکھا جو آج ہم تمہیں دے رہے ہیں۔پس یہ ایک غیر معمولی بیٹا ہوگا اور بے مثال جیسا کہ خود ہوگا ویسا ہی اس کا نام ہوگا۔اسمہ یحیی اور اس کا نام يَحْيى ہے اب يَحْيى نام کا تو مطلب ہے زندہ رہنے والا۔تحيا نام کیوں رکھا گیا حقیقت یہ ہے کہ اس میں ان کی شہادت کی بھی خوشخبری تھی۔حضرت سیجی شہید ہوئے ہیں اور شہداء کے متعلق اللہ تعالیٰ کی گواہی ہے کہ وہ زندہ ہیں اور لفظ حی ان پر اطلاق پاتا ہے تم ان کو بے وقوفی سے مردہ سمجھ رہے ہو لیکن وہ ہمیشہ کی زندگی پانے والے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے بعض حکمتوں کے پیش نظر حضرت زکریا کو جو اولاد سے محروم رکھا تھا ان حکمتوں کے پیش نظر ہی حضرت عیسی علیہ السلام کو بھی اولاد سے محروم رکھا گیا اور ان حکمتوں کا تقاضا یہ تھا کہ یہ سلسلہ آگے نہ چلے کیونکہ یہ سلسلہ تبدیل ہونے والا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان حکمتوں کو تو تبدیل نہیں فرمایا لیکن دعا کو پھر بھی قبول فرمالیا اور حضرت سجی کے متعلق فرمایا کہ وہ زندہ رہے گا۔یہاں زندگی کی یہ خوشخبری ہے کہ جب تک تو رہے گا تو اسے زندہ دیکھے گا جب تک تیری بیوی زندہ رہے گی وہ اس کو زندہ دیکھے گی اور تم دونوں کو اس بچے کی طرف سے کوئی دکھ نہیں پہنچے گا۔تم دونوں کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں گی۔بعد میں ہم اسے وہ ہمیشگی کی زندگی عطا کریں گے جو شہادت کے ذریعہ عطا ہوتی ہے۔پس دعاؤں پر اگر آپ غور کریں جو قرآن کریم میں محفوظ کی گئی ہیں تو عظیم الشان حکمتوں کے سمندر ہیں جو کوزوں میں بند کئے گئے ہیں اور دعائیں قبول کیوں ہوتی ہیں؟ اور کس وجہ سے ہوتی ہیں؟ وہ تمام باتیں وہ مصلحتیں بھی ان دعاؤں کے اندر مضمر ہیں ، بظاہر نظر سے چھپی ہوئی ہیں لیکن اگر آپ غور کریں تو آپ کو سمجھ آسکتی ہے۔پس وہ والدین جو اپنے لئے ایسی اولاد کی دعا کرتے ہیں کہ جو محض ایک طبعی تقاضے کی دعا ہوا کرتا ہے کہ ہمیں بیٹا دے، ہمیں بیٹا دے، ہمیں بیٹا دے۔کیوں دے؟ اس سے کوئی بحث ان کو نہیں ہوتی۔نیک ہو یا بد ہو۔اس سے ان کو کوئی بحث نہیں ہوتی وہ تو