خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 386
خطبات طاہر جلد ۱۰ 386 خطبه جمعه ۳ رمئی ۱۹۹۱ء اٹھانے والے بعض احمدی مجھے شکایت کے خط لکھ دیتے ہیں کہ ہماری ترقیات رک گئیں۔بچے لکھ دیتے ہیں کہ تعلیم کے معاملے میں ہم سے برا سلوک ہو رہا ہے۔ہمارے حقوق ادا نہیں کئے جار ہے اور وہ یہ نہیں سوچتے کہ یہ تو مسیح محمدی کو ماننے والے ہیں اور مسیح موسوی کی قوم نے کتنی عظیم الشان قربانیان دی تھیں اور کتنے ثبات قدم کے ساتھ ان قربانیوں پر قائم رہے تھے اور کچھ بھی پرواہ نہیں کی تھی کہ ان کو انسانی حقوق سے کس حد تک محروم کیا جاتا ہے اور قرآن کریم فرماتا ہے اس حد تک محروم کر دیا گیا کہ سطح زمین پر بسنا ان کے لئے ممکن نہیں رہا، انسانوں والی زندگی بسر کرنا ان کیلئے ممکن نہیں رہا۔پس اگر مسیح موسوی کے غلاموں نے ایسا عظیم الشان قربانی کا مظاہرہ کیا تو محمد مصطفی میے کے مسیح کی طرف منسوب ہو کر یہ ادنی چھوٹی چھوٹی باتیں اس جماعت کو زیب نہیں دیتیں۔دشمن جو چاہتا ہے کر گزرے جب تک چاہتا ہے اپنے مظالم پر اصرار کرتا چلا جائے مگر یہ دعامانگتے ہوئے اگر جماعت احمد یہ خدا تعالیٰ سے صبر مانگے گی اور رحم مانگے گی تو انشاء اللہ ان کے حوصلے کبھی ناکام نہیں ہوں گے اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ ان کے حوصلوں کے سر بلند رکھے گا۔اب ایک دعا حضرت زکریا کی میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں جو اولاد کی تمنا میں کی گئی ہے مگر کس قسم کی اولاد کی تمنا ہے کیوں ایسی تمنا کی گئی تھی ، اس کا پس منظر میں پہلے حضرت زکریا کی ایک دعا میں آپ کے سامنے بیان کر چکا ہوں یہ دعا اپنی ایک الگ شان رکھتی ہے بڑا گہرا اس میں درد ہے اور بہت ہی زیادہ خدا تعالیٰ سے وفا کا اظہار ہے اور خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق میں استقلال کا اظہار ہے میخص اس سے یہ آیت شروع ہوتی ہے سورہ مریم کی یہ پہلی آیت ہے گھیعص (مریم:۲) ایہ وہ حروف ہیں جو حروف مقطعات کہلاتے ہیں اور ان میں خدا تعالیٰ کی بعض صفات بیان کی گئی ہیں۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ عَبْدَهُ زَكَرِيَّان ( مریم :)۔اے محمد ہے اب ہم اپنے ایک خاص بندے زکریا کے ساتھ تیرے رب کی رحمت کا ذکر کرنے لگے ہیں۔جب کوئی خاص اہم بات ہو تو تمہیدا اس سے پہلے متوجہ کیا جاتا ہے کہ دیکھو دیکھو اب بہت عظیم الشان ذکر ہونے والا ہے، تو اس طرح قرآن کریم نے اس مضمون کا عنوان باندھا ہے پہلے اپنی وہ صفات بیان فرمائیں جن کے متعلق آنحضرت ﷺ کی تشریح فتح البیان میں یہ مذکور ہے کہ ام ہانی صلى الله