خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 385 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 385

خطبات طاہر جلد ۱۰ 385 خطبه جمعه ۳ رمئی ۱۹۹۱ء جنہوں نے توحید کی خاطر عظیم الشان قربانیاں دی ہیں اور یہ قربانیاں ان کو رومن حکومت کے مظالم کے مقابل پر بھی دینی پڑیں اور بعض عیسائی متعصب فرقوں کے مقابل پر بھی دینی پڑیں جو رفتہ رفتہ توحید سے تثلیث کی طرف گمراہ ہو چکے تھے۔پس ان کا یہ ذکر تاریخی لحاظ سے ہراس قوم کے لئے اہمیت رکھتا ہے جس کو خدا کی راہ میں تکلیفیں پہنچائی جائیں گی اور بڑی بڑی آزمائشوں میں ڈالا جائے گا۔اس سے پہلے میں نے حضرت یوسف کی ایک دعا آپ کے سامنے رکھی تھی اور خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ بہت ہی حسین قصہ ہے کہ یوسف نے یہ دعا کی کہ اے خدا ! یہ عورتیں جن لذتوں کی طرف مجھے بلاتی ہیں رب الجُنُ أَحَبُّ اِلَى مِمَّا يَدْعُونَنِي إِلَيْهِ (یوسف:۳۴) میرے اللہ مجھے قید خانہ زیادہ پیارا ہے بجائے اس کے کہ میں ان کی دعوت کے نتیجہ میں دنیاوی لذتوں کو اختیار کرلوں اور تیری رضا کو تج کر دوں۔یہ اس سے ملتی جلتی دعا ہے۔عیسائی قوم نے بھی آغاز میں خدا کی خاطر بہت ہی عظیم الشان قربانیاں دی ہیں اور ان کی قربانیوں کی یا دزندہ رکھنے کے لئے قرآن کریم نے ہمیں بتایا کہ انہوں نے دنیا کی سطح کے مقابل پر غاروں میں بسنا پسند کر لیا۔تہذیب کو چھوڑ کر پرانے زمانوں کی طرف لوٹ گئے جبکہ انسان ابھی متمدن نہیں ہوا تھا اور یہ عرض کیا اے خدا! اب ہمیں دنیا والوں سے رحمت کی کوئی امید نہیں رہی۔اتنا مِنْ لَّدُنكَ رَحْمَةً اب تیرے سوا کوئی عطا کرنے والا نہیں ہے تو اپنی جناب سے ہمیں رحمت عطا فرم، وَهَيِّئْ لَنَا مِنْ أَمْرِنَا رَشَدًا اور محض اپنے فضل اور رحمت کے نتیجہ میں ہمیں ہدایت پر قائم رکھنا کیونکہ ہدایت کی خاطر ہم یہ قربانی دے رہے ہیں اگر غاروں میں بسنے کے باوجود ہم ہدایت سے خالی ہو گئے یا دوبارہ گمراہ ہو گئے تو ہماری یہ قربانیاں ضائع جائیں گی۔جماعت احمدیہ کے حالات پر یہ دعا بہت صادق آتی ہے اس لئے خصوصیت کے ساتھ پہلے مسیح کے ماننے والوں کی قربانیوں کو یا درکھتے ہوئے اب اپنے لئے وہی تر جیحات قائم رکھیں جو پہلے مسیح کے ماننے والوں نے اپنے لئے قائم رکھی تھیں کہ دنیا کی خاطر ہدایت کو قربان نہیں ہونے دیں گے اور مظالم سے گھبرا کر وہ ہدایت کی راہ نہیں چھوڑیں گے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے ہوئے اگر تمام انسانی حقوق سے محروم بھی کر دئیے جائیں گے تب بھی وہ خدا تعالیٰ سے دعائیں کرتے ہوئے اس زندگی کو خوشی کے ساتھ قبول کرلیں گے اس لئے مجھے اس کا خیال آیا کہ بعض دفعہ پاکستان میں تکلیفیں