خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 381 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 381

خطبات طاہر جلد ۱۰ 381 خطبه جمعه ۳ رمئی ۱۹۹۱ء پھر اس میں ایک اور بھی حکمت ہے کہ دونوں پرندے اپنے بچوں کے لئے محنت کرتے ہیں اور صرف ماں پر نہیں چھوڑا جاتا۔اور قرآن کریم نے جو ہمیں دعا سکھائی اس میں بھی اس مضمون کو کھول دیا گیا ہے۔آج کل کے جدید معاشروں میں ایک یہ بھی خرابی ہے اور ہمارے قدیم معاشروں میں بھی یہ خرابی ہے بلکہ بعض صورتوں میں تیسری دنیا کے ممالک میں یہ خرابی ترقی یافتہ ممالک سے بہت زیادہ پائی جاتی ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ماں کا کام ہے تربیت کرے اور والد اس میں دخل نہیں دیتے۔والد ساتھ مل کر محنت نہیں کرتے اور ماں پر چھوڑ دیتے ہیں کہ جس طرح چاہے ان کو پالے، ان کا خیال رکھے نہ رکھے والد تو صرف کمانے میں مصروف رہتے ہیں اور سمجھتے ہیں ہم نے تو اپنا فرض ادا کر دیا۔قرآن کریم نے جو دعا سکھائی اس میں یہ بتایا رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَ بَّيْنِي صَغِيرًا کہ اے میرے اللہ ان دونوں پر اس طرح رحم فرما جس طرح ان دونوں نے رحم کے ساتھ میری تربیت کی۔یعنی ماں اور باپ دونوں اولاد کے لئے محنت کرنے میں برابر کے شریک ہونے چاہئیں اور دونوں کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی چاہئیں مگر ذمہ داریاں سمجھتے ہوئے نہیں بلکہ رحم کے نتیجے میں اور شفقت کے نتیجے میں پس اس دعا کو اب دوبارہ وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ کے ساتھ ملا کر پڑھیں تو آپ کو سمجھ آجائے گی کہ وہاں پرندوں کی ہی مثال دی گئی ہے کیونکہ جانوروں کی دنیا میں سب سے زیادہ مل کر اولاد کی خدمت کرنے میں پرندے ہیں۔ان کے مقابل پر کسی اور جانور کی کوئی مثال نہیں دی جاسکتی۔جس طرح پرندے دونوں مسلسل محنت کرتے ہیں اپنی اولاد کے لئے اس طرح دوسرے جانوروں میں اتنی مکمل مشترکہ محنت کی مثال نہیں ملتی۔گھونسلہ بنانے میں بھی وہ اسی طرح محنت کر رہے ہوتے ہیں ، خوراک مہیا کرنے میں بھی اسی طرح محنت کر رہے ہوتے ہیں بلکہ بسا اوقات آدھا وقت Male یعنی نر پرندہ بیٹھتا ہے اور آدھا وقت انڈوں پر مادہ پرندہ بیٹھتی ہے اور پھر جہاں تک خوراک مہیا کرنے کا تعلق ہے اس میں بھی دونوں محنت کرتے ہیں مگرنز پرندے کو بعض دفعہ زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے خوراک مہیا کرنے میں۔تو فرمایا یہ بھی ہمیں اس دعا سے حکمت سمجھ آگئی کہ صحیح تربیت کرنے میں ماں کے علاوہ باپ کو برابر کا شریک رہنا چاہئے اور جہاں ماں اور باپ مل کر اولاد سے حسن سلوک کر رہے ہوں وہاں طلاقیں شاذ کے طور پر واقع ہوں گی۔وہ گھر نہیں ٹوٹا کرتے اکثر وہی گھر ٹوٹتے ہیں جہاں اولا د کی