خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 380
خطبات طاہر جلد ۱۰ 380 خطبہ جمعہ ۳ رمئی ۱۹۹۱ء رہتی ہیں اور ان کے ساتھ ان کے تعلق کٹ نہیں سکتے۔ایسی سوسائٹی میں کوئی Generation Gap پیدا نہیں ہوسکتا کیونکہ Generation Gap ایک بہت خطرناک اصطلاح ہے اور آج کی ترقی یافتہ دنیا کی ایجاد ہے ور نہ قدیم سوسائیٹیوں میں آج تک Generation Gap کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوا۔یہ ایک تعلیم اور ترقی کی نشانی نہیں ہے بلکہ قرآن کریم نے جو حکمت بیان فرمائی ہے اس کو نظر انداز کرنے کے نتیجے میں یہ بیماری پیدا ہوتی ہے کہ ایک Generation اپنی چھوٹی Generation کے ساتھ محبت کا تعلق چھوڑ دیتی ہے اور تربیت سے غافل ہو جاتی ہے تو وہ نسل جب بڑی ہوتی ہے اپنی پہلی نسل سے بہت دور ہٹ چکی ہوتی ہے ان کے درمیان فاصلے پیدا ہو جاتے ہیں اور وہ فاصلے پھر نسلاً بعد نسل بڑھتے چلے جاتے ہیں بجائے اس کے کہ وہ کم ہونے لگیں۔اس لئے یہ دعا جو سکھائی گئی اس کا پس منظر بھی خوب کھول کر بیان فرما دیا گیا اور اس کا جو بیچ کا حصہ ہے وہ ہے وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الدُّلِ مِنَ الرَّحْمَةِ (بنی اسرائیل : ۲۵) کہ اے بچو ! تم اپنے والدین کے لئے اس طرح نرمی کے پر پھیلا دو جیسے پرندے اپنے چوزوں کے اوپر اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کو اپنے پروں میں ڈھانپ لیتے ہیں۔یہاں پر کا استعمال اس لئے کیا گیا تاکہ پرندوں کا اپنے بچوں کے ساتھ سلوک ایک تصویر کی صورت میں ہماری نظروں کے سامنے ابھر آئے اور فرمایا کہ اس طرح اپنے والدین کے ساتھ پیار اور محبت کا سلوک کرو جس طرح پرندے اپنے بچوں کو پالتے ہیں، ان کی نگہداشت کرتے ہیں جو کلیۂ ان کے محتاج ہوتے ہیں۔یہاں دراصل انسانوں سے ہٹ کر پرندوں کی مثال دی گئی ہے۔جناح کا لفظ محاورہ ہے ضروری نہیں کہ پر کے لئے استعمال ہو۔ایک صفت کے بیان کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔لیکن کیوں استعمال ہوتا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سے پرندوں کی طرف ذہن منتقل ہو جاتا ہے کیونکہ پرندوں کے پر ہوتے ہیں اور پرندے اپنے بچوں کی بعض دفعہ اس طرح لمبے عرصے تک تربیت کرتے ہیں کہ نہ وہ بچے دیکھ سکتے ہیں نہ سن سکتے ہیں ، نہ کھا سکتے ہیں۔ان کی چونچوں کو ٹھونگے مار مار کے وہ خوراک کے لئے کھلواتے ہیں اور جب تک وہ اس لائق نہیں ہو جاتے کہ خود آزاد زندگی بسر کر سکیں۔اس وقت تک پرندوں کے والدین مسلسل محنت کرتے چلے جاتے ہیں۔