خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 379 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 379

خطبات طاہر جلد ۱۰ 379 خطبہ جمعہ ۳ رمئی ۱۹۹۱ء معاشرے میں والدین کو ہوتا ہی ہے۔فرمایا ایسا پیار ہو جو تربیت میں استعمال ہوا ہو اور ایسا پیار نہ ہو جو تربیت خراب کرنے والا پیار ہو۔پس پیار کے متوازن ہونے کا بھی اس آیت میں ذکر فرما دیا اور یہ بھی بتا دیا کہ وہ پیار ہی کام کا پیار ہے جس کے نتیجے میں اولا د اعلیٰ تربیت پائے۔پس وہ والدین جو اس بات سے غافل رہتے ہیں ان کی سوسائیٹیوں میں کئی قسم کی خرابیاں جگہ پکڑ جاتی ہیں اور ان کی اولادیں جب بڑی ہوتی ہیں تو وہ اپنے والدین کے لئے نہ خدا تعالیٰ سے احسان کی دعائیں مانگتے ہیں نہ خود احسان کا سلوک کرتے ہیں۔نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بوڑھے آدمیوں کے گھر ایسے والدین سے بھر جاتے ہیں جن کی اولادیں ان سے غافل ہو چکی ہوتی ہیں۔ان کے ساتھ حسن سلوک تو در کنار ان کی معمولی سی غفلت پر ان کو ڈانٹتے ہیں، ان سے قطع تعلقی کرتے ہیں ان کے ساتھ بدسلوکی سے پیش آتے ہیں اور جن جن معاشروں میں یہ مرض بڑھتا چلا جاتا ہے وہاں حکومت کے اخراجات بوڑھے لوگوں کے گھروں پر زیادہ سے زیادہ بڑھنے لگتے ہیں یہاں تک کہ بعض امیر ممالک بھی عاجز آ جاتے ہیں اور ان کے پاس اتنا روپیہ مہیا نہیں ہوتا کہ وہ اپنی سوسائٹی کے سب بوڑھوں کی ضرورتوں کو پورا کر سکیں۔جو ضرورتیں دراصل ان کی اولاد کو پوری کرنی چاہئے تھیں۔لیکن جیسا کہ غالباً مولاناروم کا شعر ہے از مکافات عمل غافل مشو گندم از گندم بر دید جو ز جو کہ اعمال کے جو اثرات مترتب ہوتے ہیں ان سے غافل نہ رہنا گندم از گندم بروید جوز جو گندم کا بیج ڈالو گے تو گندم ہی اگے گی اور جو بوؤ گے تو جوہی اگیں گے۔اس لئے پہلی نسلوں کے ساتھ آنے والی نسلوں کا تعلق دراصل اس تعلق کا آئینہ دار ہے جو پہلی نسلوں نے اپنی چھوٹی نسلوں سے رکھا تھا اگر اس میں شفقت تھی اور اس میں صرف شفقت ہی نہیں تھی بلکہ تربیت کے لئے استعمال ہونیوالی شفقت تھی ، اگر رحمت کا سلوک تھا اور اس رحمت کے نتیجہ میں اولاد کے ساتھ بہت ہی حکمت کے ساتھ برتاؤ کیا گیا تا کہ ان کے اخلاق بگڑیں نہیں بلکہ سنورتے چلے جائیں اور اس رنگ میں ان کی تربیت کی گئی اور رحم کے نتیجے میں تربیت کی طرف زیادہ توجہ دی گئی تو ایسے لوگوں کی اولادیں پھر اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اس احسان کو یادر کھتے ہوئے فطری طور پر اپنے والدین کے لئے آخر وقت تک نرم