خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 378 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 378

خطبات طاہر جلد ۱۰ 378 خطبہ جمعہ ۳ رمئی ۱۹۹۱ء جب تک رحم کا معاملہ نہ کیا جائے اس وقت تک بچے کی صحیح تعلیم نہیں ہوسکتی۔چنانچہ بعض والدین جو جہالت سے حوصلہ چھوڑ بیٹھتے ہیں وہ بچپن سے بجائے رحم کے سختی کا معاملہ شروع کر دیتے ہیں اور سختی کے ساتھ بچے کی تربیت ہو نہیں سکتی۔اس میں بغاوت پیدا ہو جاتی ہے، اس میں سخت رد عمل پیدا ہوتے ہیں اور بجائے اس کے کہ اس کی تربیت ہو اس کے اندر بچپن سے نقائص بیٹھ جاتے ہیں۔پس اس آیت کریمہ نے اس حکمت کو بھی ہمارے سامنے روشن کر دیا کہ وہ والدین جو اچھی تربیت کرنے والے ہوں وہ بچپن میں رحم کے ساتھ تربیت کیا کرتے ہیں اور وہ لوگ جن کو یہ دعا سکھائی گئی ہے وہ کیونکہ دراصل حضرت محمد مصطفی ہے اور آپ کے ساتھ ہیں، آپ کے غلام ہیں اس لئے ان کے والدین سے بہترین توقعات بھی پیش فرمائی گئیں اور یہ بیان کیا گیا کہ جس طرح ہمارے والدین بچپن میں ہماری کمزوریوں کے پیش نظر ہم سے سختی کرنے کی بجائے رحمت کا معاملہ کیا کرتے تھے اور تربیت میں بار بار بخشش کا سلوک فرماتے تھے اسی طرح اے خدا! اب میرے والدین کمزور ہو چکے ہیں تو ان کی غفلتوں اور کمزوریوں سے درگزر فرما اور ان کے ساتھ بخشش اور رحمت کا سلوک فرما۔اس ضمن میں ایک یہ بات بھی یادرکھنے کے لائق ہے کہ گما کے لفظ نے ہمیں ہماری بہت سی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلا دی جو صرف والدین کی طرف سے نہیں بلکہ اپنی اولا داور آئندہ نسلوں کی طرف سے ہمیں پیش آتی ہیں اور ہمیں انہیں کس طرح ادا کرنا چاہئے۔اس کی طرف توجہ دلائی گئی ہے فرمایا رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيْنِي صَغِيرًا۔كَمَا کے لفظ نے یہ بتایا کہ اگر والدین بچوں کی تربیت رحمت کے ساتھ نہیں کرتے تو یہ دعا ان کے حق میں نہیں سنی جائے گی کیونکہ گما کا مطلب ہے جیسے انہوں نے بچپن میں رحمت کے ساتھ میری تربیت کی یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کو بھلا کر یورپ اپنے معاشرے میں کئی قسم کے عذاب پیدا کر چکا ہے۔اولاد کے ساتھ حسن سلوک اور رحمت کے ساتھ تربیت کرنا اس لئے بھی نہایت ضروری ہے تا کہ بعد میں بڑے ہوکر اس اولاد کا اپنے والدین سے اسی طرح رحمت اور نرمی اور مغفرت کا تعلق ہو۔اگر بچپن ہی سے والدین اپنی زندگی کی لذتوں میں منہمک ہوں اور اولادکو سکولوں کے سپر د کر دیں یا معاشرے کے سپرد کر دیں اور ان کی تربیت میں جو ذاتی تعلق پیدا کرنا چاہئے وہ تعلق پیدا نہ کریں تو یہ دعا ان کے حق میں نہیں سنی جائیگی یاد رکھیں یہاں بچوں کے ساتھ پیار کا ذکر نہیں ہے۔بچوں کے ساتھ پیار تو ہر