خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 34
خطبات طاہر جلد ۱۰ 34 خطبہ جمعہ ۱۱ جنوری ۱۹۹۱ء رہتا کہ وہ زبر دستی عراق پر حملہ کریں اور اگر پھر بھی وہ کریں تو پھر یہ بات اتنی آسان نہیں رہے گی تمام عرب میں اور تمام عالم اسلام میں مغربی ممالک کے خلاف بغاوت شروع ہو جائے گی۔پس یہ اصل صورتحال ہے۔دعا یہ کریں کہ مسلمان ممالک کو اللہ تعالیٰ عقل عطا فرمائے صحیح سوچ اختیار کرنے کی توفیق بخشے اور جرات مندانہ ایسا فیصلہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے جس کے نتیجے میں غیر قوموں کو عالم اسلام میں دخل اندازی کا بہانہ نہ رہے۔لیکن یہ بھی مجھے نظر نہیں آرہا اور جس حد تک یہ لوگ آگے بڑھ چکے ہیں میں سمجھتا ہوں کہ اس کی بنا بڑی شدید قسم کی خود غرضی ہے جس کی وجہ سے اسلام تو محض دور کی بات ہے عرب تعلقات بھی ان کی سوچ کی راہ میں بالکل حائل نہیں ہورہے اور اپنی ہمسائیگی کا بھی قطعاً کوئی خیال نہیں اور یہ خطرہ بھی نہیں کہ عرب دنیا پر کیا گزرے گی۔یہ ساری چیزیں دور کی باتیں ہیں۔بنیادی طور پر اپنے ذاتی مفاد کا جو تقاضا ہے وہ ہر دوسری فکر پر غالب آچکا ہے۔اگر آپ نے غور کیا ہو تو آپ یہ معلوم کر کے حیران ہوں گے کہ ۱۵ار جنوری کی تاریخ پر آخر اتنا زور کیوں دیا جارہا ہے۔۱۵/جنوری کوئی خدا نے تاریخ مقررفرمائی ہے؟ یہ ہو کیا رہا ہے؟ چند مہینے پہلے تم کہہ رہے تھے کہ Sanctions لگائی گئی ہیں ایک سال کے اندراندر Sanctions کام کریں گی اور یقیناً کریں گی چھ مہینے تک ہوسکتا ہے پورے نتیجے ظاہر نہ ہوں۔اس قسم کی کھلی کھلی باتیں امریکہ کیا کرتا تھا اور دوسرے مغربی مفکرین بھی ایسے ہی تخمینے پیش کرتے تھے۔اب اچانک یہ کیا ہو گیا ہے کہ اگر چہ ان Sanctions نے کام شروع کیا اور اس کی تکلیف بھی عراق کو پہنچی تو بجائے اس کے کہ انتظار کرو اور عراق کو اور کمزور ہونے دو اور اگر حملہ کرنا ہے تو اس وقت کرو۔اب اتنی جلدی کس بات کی پڑ گئی ۱۵ار جنوری کی تاریخ کا کیا تعلق ہے۔میں نے غور کیا ہے اور میں سمجھتا ہوں اس کا تعلق سعودی عرب اور اس کے ساتھیوں کی خود غرضی سے ہے اس ساری جنگ کا بل تو سعودی عرب نے ادا کرنا ہے اور یہ سعودی عرب بے شمار امیر ہونے کے باوجود اندر سے سخت کنجوس ہے ان کو Billions کے جو بل ادا کرنے پڑرہے ہیں انہوں نے حساب لگایا ہوگا کہ اگر Sanctions کا انتظار کیا جائے تو جب تک عراق کا صفایا ہوتا اس وقت تک ہمارا بھی صفایا ہو چکا ہوگا۔ہمارے سارے بینک بیلنس ختم ہو چکے ہوں گے اس لئے ان کو بڑی سخت افراتفری پڑی ہے۔اور یہ خطرہ لاحق ہو گیا ہے کہ ہم تو اس عرصے میں کنگال ہو جائیں گے تو انہوں نے دباؤ ڈالا ہے اور امریکہ یہ بات کھل کر لوگوں کے سامنے پیش نہیں کر سکتا کہ کون ہم پر دباؤ