خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 35
خطبات طاہر جلد ۱۰ 35 خطبہ جمعہ اار جنوری ۱۹۹۱ء ڈال رہا ہے۔صدر بش خود اپنے ملک میں ذلیل ہو رہا ہے کانگریس بار بار اس سے سوال کر رہی ہے کہ تم کل یہ باتیں کر رہے تھے Sanctions یوں چلیں گی اور ؤوں چلیں گی اور ایک سال کا عرصہ گزرے گا اور عراق گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جائے گا۔اب اچانک تم نے سارے فیصلے بدل دیئے اور لڑائی کے سوابات ہی کوئی نہیں کرتا۔اب صدر بش کس طرح کہے کہ بھئی ہم تو Mercenaries بنے ہوئے ہیں۔ہم تو کرائے کے فوجی ہیں اور وہ ملک ہمیں حکم دے رہا ہے جس نے ہمیں کرائے پر رکھا ہوا ہے، وہ کہتا ہے کہ جلدی کرو میں اس سے زیادہ بل برداشت نہیں کر سکتا۔تو اصل صورت حال یہ ہے۔پس جب میں نے کہا کہ Ball اب مسلمان ممالک کی کورٹ میں ہے تو ایک تو عمومی نظرئیے کے طور پر کہا ، وہ میں نے آپ کے سامنے بیان کیا ہے۔دراصل بنیادی بات یہ ہے کہ سعودی عرب کے ہاتھ میں فیصلہ ہے اور اس کے جو Mounting Bills ہیں ،اس کے بڑھے ہوئے جنگی اخراجات ہیں وہ اسے مجبور کر رہے ہیں کہ جلدی یہ فساد بیچ میں سے ختم ہو اور پھر ہم اصل صورت حال کی طرف واپس لوٹیں۔مگر یہ بڑی بیوقوفی ہے ان کی جو یہ سوچ رہے ہیں کہ جلد اصل صورت حال کی طرف واپس لوٹیں۔اصل صورت حال کا تو نام ونشان مٹ چکا ہوگا۔اگر عراق مٹایا گیا تو اس کے ساتھ ماضی کی ساری کی ساری تاریخ ملیا میٹ کر دی جائے گی ، عرب ممالک کے مزاج بدل چکے ہوں گے، عرب قوموں کی سوچیں بدل چکی ہوں گی اور نئے حالات میں نئے زمانے پیدا ہوں گے اور بیوقوفوں والی خوا میں دیکھنے والے یہ لوگ جو چاہتے ہیں کہ جلد قضیئے سے پیٹیں اور اصل حالات کی طرف واپس لوٹیں کبھی بھی کسی اصل کی طرف واپس نہیں لوٹیں گے بلکہ تاریخ انہیں رگیدتی ہوئی آگے بڑھاتی چلی جائے گی اور آئندہ نہایت خطرناک قسم کے حالات ہیں جو ان کو درپیش ہوں گے اور ان سے یہ بچ نہیں سکیں گے۔یہ تو تیز رفتار لہروں پر سوار ہو چکے ہیں۔جیسے پہاڑی ندی نالے زیادہ تیز اترائی میں چلتے ہیں تو ان کے منہ سے جھا گیں نکلتی ہیں ، ان کے اوپر مضبوط سے مضبوط کشتی یا جہاز بھی ہوتو تنکوں کی طرح اس سے یہ موجیں کھیلتی ہیں اور خاص طور پر جب یہ ندیاں آبشاروں کی صورت میں چٹانوں سے نیچے اترتی ہیں تو بڑی سے بڑی مضبوط چیزوں کے بھی پر نچے اڑا دیتی ہیں۔پرزہ پرزہ کر ڈالتی ہیں۔پس یہ زمانے کی طاقتور