خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 374
خطبات طاہر جلد ۱۰ 374 خطبه جمعه ۳ رمئی ۱۹۹۱ء صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ اے ہمارے اللہ ! ہمیں صراط مستقیم پر چلا۔اس صراط مستقیم پر جس پر وہ لوگ چلتے رہے جن پر تو نے انعام نازل فرمائے۔میں نے بتایا تھا کہ جن پر انعام نازل فرمائے گئے وہ دعاؤں کی بدولت اپنی مراد کو پہنچے ہیں محض انسانی کوششوں سے کامیاب نہیں ہوئے اور ہمارے لئے بھی سورہ فاتحہ کی اس دعا نے قرآنی دعاؤں کا ایک سلسلہ کھول دیا ہے اور اس سلسلے کا قرآن کریم میں مکمل طور پر ذکر محفوظ ہے۔صرف انبیاء ہی کی دعا ئیں درج نہیں بلکہ دیگر صالحین اور خدا تعالیٰ کے پسندیدہ بندوں ، مردوں اور عورتوں کی دعا ئیں بھی قرآن کریم میں ہمارے لئے محفوظ فرما دی گئی ہیں۔آج کے لئے پہلی دعا اولاد کی دعا ہے جو اسے اپنے والدین کے لئے کرنی چاہئے اور یہ دعا جو الہامی دعا ہے ان معنوں میں کہ اللہ تعالیٰ نے خود حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ اور آپ کی امت کو سکھائی ،دعا تو یہ ہے : رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَ بَّيْنِي صَغِيرًا ( بنی اسرائیل :۲۵) اے میرے رب ! ان دونوں پر ، میرے والد اور میری والدہ پر اس طرح رحم فرما جس طرح بچپن سے یہ میری تربیت کرتے چلے آئے ہیں۔لیکن اس دعا کی گہرائی کو سمجھنے کے لئے اس کا وہ پس منظر جاننا ضروری ہے جو یہی آیت کریمہ ہمارے سامنے کھول کر رکھ رہی ہے۔پس پوری آیت کو پڑھنے کے بعد اس دعا کی اہمیت بھی سمجھ آتی ہے کہ اور کن کن باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ دعا کرنی چاہئے ، یہ مضمون بھی ہم پر روشن ہو جاتا ہے۔آیت یہ ہے وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا (بی اسرائیل:۲۴) که اللہ تعالیٰ نے یہ مقدر فرما دیا ہے، یہ فیصلہ کر دیا ہے۔اللہ تعالیٰ کی بجائے ربك لفظ ہے یعنی اے محمد تیرے رب نے یہ فیصلہ صادر فرما دیا ہے الَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا اور والدین کے ساتھ احسان کا سلوک کرو۔والدین کے ساتھ نیکی کے برتاؤ کی اتنی بڑی اہمیت ہے کہ توحید کی تعلیم کے بعد دوسرے درجے پر خدا نے جس بات کا فیصلہ فرمایا وہ یہ تھا کہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو۔احسان کا لفظ کن معنوں میں استعمال ہوا ہے اس کے متعلق میں پھر دوبارہ آپ سے بات کروں گا۔إمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَا أَفْ وَلَا تَنْهَرْ