خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 363
خطبات طاہر جلد ۱۰ 363 خطبه جمعه ۲۶ رامیریل ۱۹۹۱ء پس دیکھیں کہ قرآنی دعائیں جو گہرے مضامین سمیٹے ہوئے ہیں جب آپ ان میں غوطہ مارتے ہیں۔ان میں اتر کر ان دعاؤں کو اور ان کی مقبولیت کے حالات کو دیکھتے ہیں تو کیسے کیسے حسین دلکش نظارے ان پردوں کے پیچھے دکھائی دیتے ہیں اور صرف یہی نہیں بلکہ پردوں کے پیچھے اور پردے ہوتے ہیں۔آپ اور بیچ میں داخل ہوتے چلے جائیں۔اپنے نفس پر ان مضامین کو وارد کرتے رہیں تو آپ کو اور زیادہ لطیف اور دلکش نظارے ان کے پیچھے سے دکھائی دیتے چلے جائیں گے۔پھر ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی دوسری دعا جو اُس سے ملتی جلتی ہے جو پہلے گزر چکی ہے۔وہ یہ بیان فرمائی گئی: وَ اِذْ قَالَ ابْرُ هِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هَذَا الْبَلَدَا مِنَّا وَ اجْنُبْنِي وَبَنِي أن نَّعْبُدَ الْأَصْنَامَ (ابراہیم : ۳۶) یہ جو دعا ہے یہ اس دعا سے ملتی جلتی لیکن اس سے مختلف ہے جوسورہ بقرہ کی ۱۲۵ اور آگے پیچھے کی آیات میں درج تھی وہاں بھی یہ ذکر ہے کہ وَإِذْ قَالَ ابْرُ هِیمُ رَبِّ اجْعَلْ هَذَا الْبَلَدَا مِنَّا سرسری نظر سے پڑھیں تو ایک ہی دعا لگتی ہے۔دونوں جگہ اس شہر کے امن کی دعامانگی گئی ہے۔اس کے امین ہونے کی دعا مانگی گئی ہے۔لیکن حقیقت میں جو پہلی دُعا تھی اس میں شہر کیلئے دُعا نہیں مانگی تھی، جگہ کے لئے دعامانگی تھی کیونکہ وہاں یہ دُعا ہے: رَبِّ اجْعَلْ هَذَا الْبَلَدَا مِنَّا یہ جگہ چٹیل میدان جہاں کچھ بھی نہیں ہے۔اسے ایک رستے بستے شہر میں تبدیل فرما دے۔پس یہ دُعا جواب کی گئی ہے اس میں یہ نہیں فرمایا کہ اس جگہ کو امن کی جگہ بنادے بلکہ فرمایا ہے: هُذَا الْبَلَدَا مِنَّا کہ اے خدا! تو نے میری دُعاؤں کو سُن لیا۔اور اس جگہ کو شہر بنا چکا ہے۔اب یہاں با قاعدہ آبادی ہے۔اب میں اس شہر کے لئے تجھ سے امن کی دعا مانگتا ہوں اس کے بعد اس دُعا میں بعض ایسی باتوں کا ذکر ہے جو دراصل پہلی دُعا کے ساتھ گہرا تعلق رکھتی ہیں اور ان کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے آپ سے جو خطاب فرمایا اُس کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنی دُعا میں ترمیم کی گئی ہے۔پہلی دُعا آپ کو یاد دلانے کے لئے پڑھتا ہوں۔وہ یہ تھی : وَاِذْ قَالَ ابْرُ هِمُ رَبِّ اجْعَلْ هَذَا بَلَدًا أَمِنَّا وَارْزُقْ أَهْلَهُ مِنَ الثَّمَرَاتِ مَنْ آمَنَ مِنْهُمْ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ قَالَ وَمَنْ كَفَرَ فَا مَتِّعَهُ قَلِيلًا ثُمَّ أَضْطَرَةٌ إِلى عَذَابِ النَّارِ وَ بِسَ الْمَصِيرُ (البقره: ۱۳۷) جب ابراہیم نے خدا سے یہ عرض کیا کہ اے خدا! اس جگہ کو تو ایک شہر میں تبدیل فرما جو امن کا شہر ہواور اس میں بسنے والوں کو تو ہر قسم کے رزق عطا فرما، ہر قسم کے پھل عطا فرما۔مَنْ آمَنَ مِنْهُمْ