خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 362 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 362

خطبات طاہر جلد ۱۰ 362 خطبه جمعه ۲۶ / اپریل ۱۹۹۱ء ہوئے بھی کرتے ہیں کہ اے خدا ! یہ ہو جائے تو ہم سب کچھ پیش کرنے کے لئے تیار ہیں مگر جب مشکل پڑتی ہے تو اس وقت وہ پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔قرآن کریم نے اس مضمون کو ایک اور جگہ یوں بیان فرمایا کہ تم لوگ تو قتال مانگا کرتے تھے کہتے تھے کہ اے خدا! ہمیں جہاد کے وہ میدان دیکھا جہاں ہم اپنی قربانیاں پیش کریں اور اب وہ آگیا ہے تو تم کھڑے دیکھ رہے ہو۔تمہیں سمجھ نہیں آرہی کہ کیا کریں۔تو دعا سے کوئی چیز مانگنا اور بات ہے اور جب وہ ابتلاء سامنے آکھڑا ہو تو اس میں پڑنا اور حوصلے کے ساتھ صبر کے ساتھ اس تکلیف کو برداشت کرنا اور بات ہے۔پس خدا تعالیٰ نے اس حسین قصے میں جو سب سے زیادہ حسین ہے ہمیں یہ بتایا کہ یوسف نے دعا مانگی اور ہم نے اس کی دعا کو قبول کیا تو محض اس کو تکلیف دینے کے لئے نہیں بلکہ ساری دنیا کو بتانے کے لئے اور ہمیشہ ہمیش کے لئے بتانے کے لئے کہ وہ دعا میں انتہائی سچا اور مخلص تھا۔واقعہ اس کو قید خانہ اور اس کی صعوبتیں دکھائی دے رہی تھیں اور وہ ان کی پناہ مانگ رہا تھا کہ اے خدا! اس عیش کی زندگی سے مجھے وہاں ڈال دے چنانچہ پھر انہوں نے خوشی سے قبول کیا ، وہاں رہے، وہاں تبلیغیں کرتے رہے۔وہاں خدا کی یاد میں مزے کی زندگی گزاری اور ایک ذرہ بھی دل میں شکوہ پیدا نہیں ہوا کہ مجھ معصوم کو جو آج ساری دنیا میں سب سے زیادہ معصوم انسان ہے بے جرم کیوں مارا جارہا ہے اور پھر آخر پر جب آپ کو وہاں سے نجات ملتی ہے تو پھر اس وقت بہت ہی عجیب حیرت انگیز انکسار کا اظہار کرتے ہیں۔پیغا مبر کو کہتے ہیں پہلے اپنے آقا، بادشاہ سے کہو کہ وہ جوعورتیں تھیں جنہوں نے الزام لگایا تھا ان کا حال تو پوچھو۔کیا حال ہے ان کا ؟ اب کیا کہتی ہیں؟ اور مجھے نکالو تو معصوم حالت میں نکالو۔دیکھیں کتنا عجیب دلچسپ اور گہرا امضمون ہے۔فرمایا۔میں الزام کی حالت میں گیا ہوں۔میں الزام کی حالت میں کیسے باہر آجاؤں۔یہ الزام تو مجھے پسند نہیں ہے۔اس کی خاطر تو ساری تکلیفیں برداشت کی تھیں اس لئے میں جب تک معصوم ہو کر نہیں نکالا جاتا مجھے ابھی بھی آزادی نہیں چاہئے۔حالانکہ بادشاہ مہربان ہو چکا ہے اور پھر جب بادشاہ نے ان سے پتا کروایا تو انہوں نے کہا وہ تو بالکل ہم ہے، فرشتہ ہے۔اس کا کوئی قصور نہیں ، ہم نے شرارت کی تھی ، ہم نے فتنہ پیدا کیا تھا۔اس کے بعد وہ یہ کہتے ہیں میں اپنے نفس کو اب بھی بری نہیں کرتا۔اِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ (الیوسف:۵۴) کہ انسان کا نفس تو گناہوں کی تعلیم دینے والا ہے۔اللہ ہی کا فضل تھا جو میں بچ گیا ہوں۔معصوم۔