خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 361 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 361

خطبات طاہر جلد ۱۰ 361 خطبه جمعه ۲۶ / اپریل ۱۹۹۱ء بلا رہے ہیں اے خدا! میں زیادہ پسند کرتا ہوں کہ میں قید ہو جاؤں اور قید خانے میں زندگی بسر کروں۔مجھے یہ آزادی پسند نہیں ہے جو لذتوں کی آزادی ہے مگر تیری رضا کی آزادی نہیں ہے۔کتنی عظیم الشان دعا ہے۔وہ یہ بھی دعا کر سکتا تھا کہ اے خدا! مجھے بچالے لیکن دوسری طرف قید خانے کو دیکھا۔اس مضمون کو ذہن میں رکھا اور یہ دعا کی کہ اے خدا! مجھے قید خانہ زیادہ پسند ہے۔اب دیکھیں دعا اور قبولیت میں کیسے لطیف رشتے ہیں۔پس یہ سمجھ نہیں سکتا تھا کہ حضرت یوسف بے چارے کو اللہ تعالیٰ نے اتنی لمبی قید میں کیوں مبتلا کر دیا۔اپنی منہ مانگی دعا ہے جو ان کے سامنے آئی۔پس جہاں ایک طرف دعاؤں میں احتیاط بتانے والا یہ مضمون ہے جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے ہمیں سکھایا کہ اپنے لئے مشکل دعا مانگا ہی نہ کرو۔اللہ تعالیٰ تو تمہیں مشکل میں ڈالے بغیر بھی معاملے حل کر سکتا ہے اس لئے خواہ مخواہ کیوں اپنے آپ کو مشکل میں ڈالتے ہو۔آپ نے یہ کہہ کر ہم پر بڑا احسان فرمایا لیکن دوسری طرف اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ میرے بندے جب بعض دعائیں مانگتے ہیں تو میں ان کے دل کی صداقت ظاہر کرنے کے لئے ایسا کرتا ہوں۔اس دعا نے اور اس کی قبولیت نے مل کر اس معاملے کو اتنا حسین بنا دیا ہے کہ جب سے دنیا بنی ہے ایسا عجیب واقعہ کبھی دنیا میں پیش نہیں آیا کہ وہ خدا جو اپنے بندے سے اتنا پیار کرتا ہے اور پھر ایسے پاکباز بندے سے یعنی یوسف جیسے بندے سے، اس کی دعا بھی سنتا ہے اور اس کو بچا بھی لیتا ہے اور پھر قید خانے میں ڈال دیتا ہے۔تو قید خانے میں کیوں ڈال دیا؟ میرے نزدیک اس لئے کہ حضرت یوسف کے دل کی سچائی ثابت ہو اور عام دعا کرنے والوں سے الگ اور ممتاز کر کے آپ کو دکھایا جائے ورنہ دعا کرنے والے بڑی بڑی دعائیں کر جاتے ہیں اور باتوں باتوں میں اپنی جان فدا کرتے رہتے ہیں لیکن جب ابتلاء کا وقت آتا ہے تو جانیں لے کر بھاگ جاتے ہیں۔میں نے دیکھا ہے اور مجھے کئی خط بھی آتے ہیں کہ جی آپ کہیں تو مال جان سب کچھ حاضر اور چھوٹا سا ابتلاء اولاد کی طرف سے آجائے یا قضاء کے فیصلے کی طرف سے آجائے تو نہ جان حاضر ہوتی ہے، نہ مال حاضر ہوتا ہے۔وہی لوگ باتیں بنانی شروع کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں۔یہ خلیفہ ہے؟ اس میں تو انصاف ہی کوئی نہیں۔تو خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ منہ کی اکثر باتیں جھوٹی اور بے معنی ہوا کرتی ہیں۔خدا کے حضور سجدوں میں لوگ بڑی بڑی پیاری دعائیں کرتے ہیں۔روتے