خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 356
خطبات طاہر جلد ۱۰ 356 خطبہ جمعہ ۲۶ / اپریل ۱۹۹۱ء بچار ہے خدا تو کوئی عبث کام نہیں کیا کرتا اور پھر میرے بندے موسی“ کی دعا تھی اس کا کچھ نہ کچھ فائدہ تو پہنچنا چاہئے، تو جو فائدہ تجھے نہیں پہنچاوہ تیری وجہ سے آئندہ نسلوں کو پہنچے گا اور آنے والے لوگ اس سے نصیحت حاصل کریں گے۔تو دیکھیں بظاہر سرسری طور پر ان دعاؤں سے گزریں تو معمولی سا مضمون سمجھ میں آتا ہے لیکن جب ڈوب کر چلیں اور ان کے اندر جو مضامین کی نہیں ہیں ان کو دیکھتے ہوئے سیر کرتے ہوئے آگے بڑھیں تو بڑے بڑے لطیف مضامین ہیں جو ان دعاؤں میں اور ان کی قبولیت کے نشانات میں پوشیدہ ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں ان کا عرفان عطا فرما تا رہے۔یہ آیت پوری یوں ہے: آلَن وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَكُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ فَالْيَوْمَ نُنَجِيكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُونَ لِمَنْ خَلْفَكَ آيَةً وَإِنَّ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ عَنْ ابْتِنَا لَغْفِلُونَ (يونس: ٩٢-٩٣) کہ اب تو کہتا ہے میں ایمان لے آیا حالانکہ اس سے پہلے عمر تم نے عصیان میں گزاردی اور تو صرف گنہگار ہی نہیں بلکہ فساد کرنے والا گنہ گار تھا۔فَالْيَوْمَ نُنَجِّيكَ بِبَدَنِكَ پر آج کے دن ہم تیرے بدن کو نجات بخشیں گے تاکہ تو اپنے بعد میں آنے والوں کے لئے عبرت کا نشان بن جائے۔وَإِنَّ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ عَنْ ابْتِنَا نَعْقِلُونَ اور دنیا میں اکثر لوگ ہماری آیات سے غافل ہیں۔اس موقعہ پر جبکہ یہ آیت نازل ہوئی، یہ کہنا کہ دنیا کے اکثر لوگ ہماری آیات سے غافل ہیں ، دوہرے معنے رکھتا ہے۔ایک تو عمومی بیان ہے کہ لوگ اکثر خدا کی آیات سے غافل ہی ہوتے ہیں دوسرا یہ کہ فرعون کی لاش کے متعلق اس وقت ساری دنیا غفلت میں تھی اور یہ ایک ایسا نشان تھا جس پر دنیا کے کسی عالم کی بھی نظر نہیں تھی، کسی تاریخ دان کی بھی نظر نہیں تھی کیونکہ اس وقت کی معروف تاریخ کے مطابق فرعون کے دریا میں غرق ہونے کا واقعہ اور پھر خدا کا اس سے وعدہ کرنا ، یہ دنیا کے کسی تاریخی ریکارڈ میں درج نہیں تھا۔قرآن نے پہلی دفعہ بیان فرمایا اور مصر کی تہذیب تہہ در تہ ریت میں دفن ہو چکی تھی اور وہ بڑے بڑے مقبرے جن میں بعد میں فراعین کی لاشیں مدفون پائی گئیں اور بعد میں دریافت ہوئیں وہ اس وقت کی دنیا کی نظر میں نہیں تھے۔پس اس ذکر کا کیا پیارا انجام ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَاِنَّ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ عَنْ ابْتِنَا تَغْفِلُونَ کہ دنیا میں اکثر لوگ ہماری آیات سے غافل ہوتے ہیں ہم اتنے مستغنی ہیں کہ ہمیں کوئی جلدی نہیں، کوئی گھبراہٹ نہیں۔جانتے