خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 351 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 351

خطبات طاہر جلد ۱۰ 351 خطبه جمعه ۲۶ / اپریل ۱۹۹۱ء میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ (البقرہ:۱۹۴۰) اس وقت تک یہ سلسلہ جاری رہے گا یہاں تک کہ جب دنیا سے فتنہ اٹھ جائے۔وَيَكُونَ الدِّينُ لِلهِ اور دین بالآخر اللہ ہی کے لئے ہو جائے کسی چیز اور زور احتاج مندر ہے دین آزاد ہو جائے تو رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِلْقَوْمِ الظَّلِمِينَ میں ایک مطلب یہ ہے کہ اے خدا! ہمیں ان کا تختہ مشق نہ بنا۔وہ جبر اور ظلم اور تعدی کے ذریعے دنیا میں اپنادین پھیلا نا چاہتے ہیں اور دین حق کو مٹانا چاہتے ہیں۔پس ان معنوں میں ہمیں فتنہ نہ بنا کہ ہم ان کے تختہ مشق بن جائیں اور وہ ہم پر آزمائشیں کرتے پھریں۔فتنہ کا دوسرا مطلب ہے۔ٹھوکر کا موجب نہ بنا کیونکہ فتنہ کا ایک مطلب ٹھوکر ہے۔پس اے خدا! جب ہم نے دین کو قبول کر لیا ہے تو ایسی کمزوریاں ہم میں نہ ہوں جن کو دیکھ کر وہ کہیں جی ! یہ مومنین ہیں یہ یہ غلطیاں ان سے سرزد ہوتی ہیں، لوگوں کو پاک کرنے والے ہیں آپ اتنے گنا ہوں میں ملوث ہیں پس ہر قسم کی غلطیوں سے پاک کرنے کی دعا بھی اسی کے اندر داخل ہوگئی۔پھر فتنہ کے دونوں معنوں کا ایک ملاپ بھی اس کے اندر شامل ہے مطلب یہ ہے کہ اے خدا! اگر تو نے ہمیں ان کے ظلم کا نشانہ بننے دیا تو ظالم لوگ یہ سمجھیں گے کہ ان کا خدا نہیں ہے۔ان کا کوئی بھی نہیں ہے۔ٹھو کر کا مضمون اور ظلم وستم کا مضمون یہاں اکٹھا ہو گیا۔پس جماعت احمدیہ کے لئے یہ دعا بہت ہی موزوں اور برحل دعا ہے اور خاص طور پر یہ جو ابتلاؤں کا دور ہے اس میں اس دعا کو اس تمام وسعت کے ساتھ پیش نظر رکھتے ہوئے خدا کے حضور مانگنا چاہئے اور اس مضمون میں اگر آپ اپنے مظلوم احمدی بھائیوں کے حالات کو پیش نظر رکھ لیں یا ان تکالیف کو جن میں سے آپ گزرے ہیں، مختلف جگہ پر مختلف نوعیت کے جو روز مرہ ظلم ہورہے ہیں ان کو ذہن میں دہرالیا کریں تو اس دعا میں بہت درد پیدا ہو جائے گا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ماننے والوں کے متعلق جب آپ یہ سوچیں کہ کتنے عظیم لوگ تھے، کتنے کمزور تھے، کتنے خطرناک جابر سے ان کا مقابلہ تھا لیکن بات ہی اس سے شروع کی۔عَلَى اللهِ تَوَكَّلْنَا ہم اللہ پر توکل کرتے ہوئے اب آگے بڑھ رہے ہیں ، تو تو کل کے مضمون کو کبھی نہ بھلا ئیں تو دیکھیں اس دعا میں کیسی زندگی پیدا ہو جاتی ہے۔ہزار ہا سال کی یہ دعا مر نہیں سکتی ، زندہ دعا ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گی۔پھر عرض کرتے ہیں۔وَنَحْنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ الْقَوْمِ الْكَفِرِينَ اور ہمیں کافروں کی قوم سے اپنی رحمت کے ذریعے نجات بخش۔