خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 340 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 340

خطبات طاہر جلد ۱۰ 340 خطبہ جمعہ ۱۹ راپریل ۱۹۹۱ ء کر سکتا تھا کہ عیسائی آخر دنیا میں کس طرح حاوی ہو جائیں گے اور رزق کے تمام ذرائع پر کس طرح وہ قابض ہو کر بیٹھ جائیں گے کیونکہ اس آیت میں موجود ہے کہ جب عیسی نے آخر ان کے لئے یہ دعا مانگی تو خدا نے فرمایا ہاں! میں قبول کروں گا لیکن جو لوگ دنیاوی رزق پر راضی ہو جائیں گے اور روحانیت کی طرف سے آنکھیں پھیر لیں گے ان کو پھر میں عذاب کا نشانہ بناؤں گا۔پس یہ جو دوسرا حصہ ہے اس نے لازماً پورا ہونا ہے صرف ایک شرط ہے کہ یہ تو میں تو بہ کریں اور ان آخرین میں شامل ہو جائیں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے آخرین ہیں کیونکہ ایک وہ آخرین ہیں جن کا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام نے ذکر کیا ہے اور ان کے متعلق یہ مضمون بیان ہوا جو اس آیت میں ہے۔ایک وہ آخرین ہیں جن کا محمد مصطفی ﷺ نے ذکر فرمایا ہے اور وہ ذکر بالکل مختلف رنگ میں ہے وہ یہ ہے کہ اسلام جس طرح آج غریب ہے یعنی غربت سے شروع ہوا اور دولت سے شروع نہیں ہوا، ایسے آخرین آنے والے ہیں کہ وہ بھی اس تاریخ کو دھرائیں گے اور اسلام دوبارہ غریبانہ حالت سے شروع ہوگا۔پس جن آخرین کا ذکر ہے وہ دولتمند نہیں ہیں بلکہ غریب جماعت ہیں لیکن خدا کی محبت میں اور خدا کی خاطر اپنے رزق کو قربان کرتے چلے جاتے ہیں اور نیکی کی راہوں میں چندے دیتے چلے جاتے ہیں۔پس ان امیر قوموں کے لئے اب یہی بچنے کی راہ ہے کہ مسیح موسوی کے آخرین سے نکل کر مسیح محمدی کے آخرین میں داخل ہو جائیں اور وہیں ان کے لئے نجات ہے۔اب حضرت آدم اور ان کے ساتھی کی دعا جو کہ قرآن کریم میں یوں بیان ہوئی ہے جب کہ شیطان نے ان کے دل میں وسوسہ ڈالا اور انہیں دھوکہ دیا تو ان دونوں نے عرض کیا ر بنا ظلمنا انفسنا اے ہمارے رب ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخُسِرِينَ (الاعراف (۲۴) اگر تو نے ہم سے بخشش کا سلوک نہ فرمایا اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو ہم یقینا گھاٹا پانے والوں میں ہو جائیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تحریر فرماتے ہیں۔انسان ہر ایک گناہ کے لئے خواہ وہ ظاہر کا ہو خواہ باطن کا خواہ اسے علم ہو یا نہ ہو ہاتھ اور پاؤں اور زبان اور ناک اور کان اور آنکھ اور سب قسم کے گناہوں سے استغفار کرتا رہے۔آج کل آدم علیہ السلام کی دعا پڑھنی چاہئے۔