خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 339
خطبات طاہر جلد ۱۰ 339 خطبہ جمعہ ۱۹ راپریل ۱۹۹۱ء کے بعد بھی خدا کی نظر میں وہ اچھے لکھے جائیں۔تیری دعا کی خاطر ہم ان کو رزق تو دے دیں گے لیکن اگر روحانی مائدہ کے بغیر انہوں نے رزق پر قناعت کی اور رزق کے عاشق ہو گئے اور اسی کے ساتھ دل لگا بیٹھے تو چونکہ دنیا کے لئے ٹھوکر کا ذریعہ بن سکتے ہیں اس لئے ہم پر فرض ہوگا کہ ہم آخر ان کو ہلاک کر دیں تا کہ دنیا یہ سمجھ لے کہ محض ظاہری رزق عطا کرنا انعام نہیں ہے۔انعام اور چیز ہے اور ظاہری رزق میں فراخی دینا اور چیز ہے۔یہ وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جتنا عظیم الشان رزق یعنی مادی رزق بھی عطا کرنے کا وعدہ فرمایا اتنی ہی بڑی تنبیہ کر دی کہ اس رزق کا حق ادا کرنا ورنہ تم صفحہ ہستی سے مٹادیئے جاؤ گے اور ایک عبرتناک عذاب کے ذریعے مٹائے جاؤ گے یہ دعا حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کی دعا تھی جو اولین کے علاوہ آخرین کے متعلق خصوصیت سے مانگی گئی تھی۔آخرین میں حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کے ماننے والے آج کے دور کے عیسائی ہیں اور آپ دیکھ لیجئے کہ خدا نے کس شان سے اس دعا کے ظاہر کو پورا فرمایا ہوا ہے۔اتنا رزق وسیع کیا ہے کہ باقی ساری دنیا ان کے مقابل پر بھکاری بنی ہوئی ہے کچھ بھی ان کے پلے نہیں۔ساری دنیا کے یہ رازق بنے ہوئے ہیں جس کو چاہیں اس کو رزق دیتے ہیں جس سے چاہیں اس سے چھین لیتے ہیں لیکن چونکہ اس شرط کو پورا نہیں کیا جو روحانی مائدہ سے تعلق رکھتی تھی اس لئے دنیا کے لئے ٹھوکر کا موجب بھی بن گئے ہیں۔بہت سے غریب ممالک، مسلمان بھی اور ہندو بھی اور بدھسٹ بھی اس لئے عیسائی ہورہے ہیں کہ وہ کہتے ہیں دیکھو خدا نے ان سے حسن سلوک فرمایا، ان پر فضل فرمائے ، یہ ٹھیک ہی ہوں گے تو خدا تعالیٰ ایسا کر رہا ہے پس قرآن کریم کی دوسری آیت میں جو تنبیہ مضمر تھی وہ تنبیہ ہم اپنے سامنے ظاہراً پوری ہوتی ہوئی دیکھ رہے ہیں۔پس اس لئے یہ لازم ہے کہ یہ تو میں اگر اصلاح نہیں کریں گی اور خدا تعالیٰ کے روحانی رزق کی طرف متوجہ نہیں ہوں گی اور دین کی طرف ، بچے دین کی طرف واپس نہیں لوٹیں گی تو یہ عبرت کا نشان بن جائیں گی اور ان کو صفحہ ہستی سے مٹادیا جائے گا۔انگلستان کے دل میں لندن میں کھڑے ہو کر میں آپ کو یہ بتا رہا ہوں کہ یہ سو فیصدی کچی باتیں ہیں۔کوئی دنیا کی طاقت ان کو ٹال نہیں سکتی۔دو ہزار سال پہلے کوئی یہ تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ اس طرح عیسی کے ماننے والوں کو اتنا بڑا رزق عطا کیا جائے گا اور اتنا وسیع دستر خوان ان کے لئے اتارا جائے گا۔چودہ سو سال پہلے جب قرآن کریم میں یہ آیت نازل ہوئی ہے کوئی وہم و گمان بھی نہیں