خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 338 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 338

خطبات طاہر جلد ۱۰ 338 خطبہ جمعہ ۱۹ را پریل ۱۹۹۱ء دستر خوان نازل فرما نعمتیں نازل فرما، ایسی نعمتیں جو ہمارے اولین کے لئے بھی عید ہو جائیں اور آخرین کے لئے بھی عید ہو جائیں یعنی دونوں کے لئے خوشیوں کے سامان لا ئیں۔وَايَةً مِنْكَ اور وہ تیری طرف سے ایک نشان بن جائیں وَارْزُقْنَا وَاَنْتَ خَيْرُ الرُّزِقِينَ تو ہمارے رزق کا انتظام فرما اور تو بہترین رزق عطا کر نیوالا ہے۔اس دعا کے ساتھ یہ احتیاط ضروری ہے کہ اس دعا کے بعد خدا تعالیٰ نے جو تنبیہ فرمائی ہے اس کو بھی پیش نظر رکھا جائے۔یہ دعا سننے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں تیری یہ دعا قبول کروں گا لیکن اس شرط کے ساتھ کہ ان لوگوں نے اگر ناشکری کی تو ان کو عذاب بھی ایسا دوں گا جو دنیا میں کبھی کسی کونہ دیا گیا ہو اور دنیا کے لئے عبرت کا نشان بنادوں گا۔اب اس شرط کے ساتھ رزق عطا کرنا یہ عجیب سا لگتا ہے آخر اس کا کیا مطلب ہے؟ غور طلب بات ہے کہ ایک طرف اللہ تعالیٰ رحیم و کریم ، رزاق ، دیالو ، بے انتہاء سخی اور رحم کرنے والا اور اپنے نبی کی یہ دعا سنتا ہے کہ ہاں! میں ان کے لئے آسمان سے رزق اتاروں گا اور ساتھ ہی اتنی بڑی تنبیہ کر دیتا ہے کہ اگر یہ ناشکرے ہوئے تو ایسا عذاب دوں گا کہ دنیا میں کبھی کسی کو نہ دیا گیا ہو۔اس میں کیا حکمت ہے ؟ اس کو جب آپ سمجھ لیں گے تو پھر اس دعا کو متوازن طور پر خدا کے حضور عرض کرنے کی توفیق پائیں گے ورنہ اس کا غلط مطلب سمجھ کر آپ دعا مانگتے رہیں گے۔حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام نے مائدہ سے دراصل روحانی مائدہ مراد لیا تھا اور رزق کی دعا بھی مانگی ہے لیکن ضمنی طور پر چنانچہ آپ دوبارہ اس دعا کو پڑھیں۔فرمایا ہمارے لئے آسمان سے مائدہ اتار جو ہمارے اولین اور آخرین کے لئے عید ہو وارزقنا اور ہمیں رزق دے۔پس دعا کی درخواست کرنے والے جولوگ تھے ان کے ذہن میں روحانی مائدہ نہیں تھا بلکہ دنیاوی مائدہ تھا۔اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو قبول کرتے ہوئے متوجہ کیا کہ اصل روحانی مائدہ ہے۔اگر تم نے روحانی مائدہ سے فائدہ نہ اٹھایا اور دنیاوی رزق میں پڑ گئے تو لوگوں کے لئے ٹھوکر کا موجب بنو گے۔دنیا تمہاری مادی ترقی دیکھے گی اور یہ سمجھے گی کہ حضرت عیسی نے جو دعا مانگی تھی اس کے نتیجے میں تمہیں سب کچھ حاصل ہو گیا اور تمہاری پیروی کو فخر سمجھے گی اور اسی کو ذریعہ نجات سمجھے گی ، دنیا یہ سمجھے گی کہ ایسی قو میں جن پر خدا نے اتنی نعمتیں کی ہوں کہ ساری دنیا سے زیادہ ان پر رزق فراخ کر دیا ہو۔وہ تمام دنیا کی دولتوں کے مالک بن بیٹھے ہوں وہ اچھے لوگ ہیں تبھی تو خدا تعالیٰ ان کو عطا کر رہا ہے تو یہ فرمایا کہ ضروری نہیں ہے کہ یہ ظاہری رزق پانے