خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 336 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 336

خطبات طاہر جلد ۱۰ 336 خطبہ جمعہ ۱۹ سراپریل ۱۹۹۱ء وَاجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَدُنْكَ نَصِيرًا ( النساء: ۷۶) اور اپنی ہی جناب سے ہمارے لئے کوئی مددگار بھیج دے۔پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ایک دعا ہے جبکہ ان کی قوم نے ان کے ساتھ بے وفائی کی اور اللہ تعالیٰ کے واضح ارشاد کو سننے کے باوجود اس پر عمل کرنے سے انکار کر دیا۔ایسے وقت میں جبکہ خدا تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ ایک شہر میں داخل ہو جائیں جس کی فتح ان کے لئے مقدر کی گئی تھی تو اس موقع پر انہوں نے کہا فَاذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَآ إِنَّاهُهُنَا فَعِدُونَ (المائده: ۳۵) کہ اے موسیٰ ! جا تو اور تیرا رب دونوں لڑتے پھر وہم تو یہاں بیٹھ رہنے والے ہیں۔جب تم دونوں ہم اور تمہارا رب لڑکے شہر فتح کر لو گے تو پھر ہمیں بتادینا ہم بھی داخل ہو جائیں گے۔اس وقت حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ عرض کیا: رَبِّ إِنِّي لَا أَمْلِكُ إِلَّا نَفْسِي وَأَخِي (المائده: ۲۶) اے میرے رب ! میرا کمزوری کا یہ حال ہے کہ میں اپنے اور اپنے بھائی کے سوا کسی کو اپنے ساتھ نہیں پاتا۔سب میرا ساتھ چھوڑ چکے ہیں۔اس دعا میں بھی بڑی گہری حکمت ہے۔جواب دینے والوں نے موسیٰ سے یہ کہا تھا کہ تو اور تیرا خدا لڑتے پھرو۔دو کا ذکر کیا تھا۔خدا تو ساری کائنات کا خدا ہے اور مالک ہے۔اس نے کسی سے کیا لڑنا ہے جب وہ کسی کی ہلاکت کا فیصلہ کرے گا تو وہ ان کو ہلاک کر دے گا لیکن دولڑنے والے ضرور تھے ایک موسی" تھے اور ایک ان کے بھائی تھے۔ان کے اس جواب سے یہ شبہہ پڑ سکتا تھا کہ موسیٰ ہی صرف وفادار رہا اور موسیٰ" کا بھائی بھی ان لوگوں میں شامل ہو چکا ہے۔اس شبہہ کے ازالے کی خاطر حضرت موسیٰ کی دعا من وعن ہمارے سامنے رکھ دی گئی کہ دیکھو موسی اکیلا ہی وفادار نہیں تھا اس کا بھائی بھی وفادار تھا۔اگر چہ قوم نے اس کا ذکر نہیں کیا تو دعا یہ بتائی کہ رَبِّ إِنِّي لَا أَمْلِكُ إِلَّا نَفْسِي وَأَخِي اے خدا ! میں اکیلا ہی تیری راہ میں چلنے والا وفادار نہیں ہوں بلکہ میرا بھائی بھی میرے ساتھ شامل ہے لیکن ہم صرف دو ہی ہیں۔فَافْرُقْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقَوْمِ الْفسِقِينَ (المائدہ: ۲۶) ہمارے اور فاسقوں کی قوم کے درمیان تفریق کر دے۔ایسا سلوک فرما کہ ظاہر ہو جائے کہ ہم تیرے پسندیدہ لوگ ہیں، تیری رضا کو حاصل کرنے والے لوگ ہیں اور وہ لوگ نہیں جن سے تو ناراض ہوتا ہے۔قرآن کریم میں ایک دعا یہ سکھائی گئی رَبَّنَا آمَنَّا بِمَا أَنْزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُولَ