خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 332
خطبات طاہر جلد ۱۰ 332 خطبہ جمعہ ۱۹ سراپریل ۱۹۹۱ء تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ اَخْزَيْتَهُ اے خدا! جسے تو آگ میں داخل کر دے یا داخل کر دے گا تو اسے تو ذلیل ورسوا کر دے گا وَ مَا لِلظَّلِمِينَ مِنْ اَنْصَارِ اور ظالموں کے لئے کوئی مددگار نہیں۔یہ بھی کیسی پر حکمت دعا ہے اور دیکھیں ان کے لئے لِأُولى الْأَلْبَابِ کہلانا کیسا زیب دیتا ہے کیونکہ یہ کہنے کے بعد کہ جسے تو آگ میں داخل کرے یہ شبہہ پیدا ہوسکتا تھا کہ اللہ گویا نعوذ باللہ لوگوں کو زبر دستی آگ میں داخل کرتا پھرتا ہے۔اس شبے کا ازالہ اس دعا کے آخری ٹکڑے نے کر دیا اور وَمَا لِلظَّلِمِینَ مِنْ أَنصَارٍ اے خدا!! جن کو تو آگ میں داخل کرے گا وہ ظالم ہوں گے۔خوداپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے ہوں گے اور جو ظلم کرنے والے ہیں ان کی مدد نہیں کی جاتی۔اس لئے تو ان کی مدد نہیں کرے گا۔وَمَا لِلظَّلِمِینَ مِنْ أَنصَارٍ پھر یہ دعا آئی: رَبَّنَا إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا تُنَادِى لِلْإِيْمَانِ کہ اے خدا! ہم نے اس منادی کی آواز کو سنا جو یہ پکار رہا تھا کہ اپنے رب پر ایمان لے آؤ۔پس ہم نے اس پکار کو سنا اور ایمان لے آئے اس ایمان لانے کے نتیجے میں کیا طلب کیا جاتا ہے۔لِأُولى الالباب یہ عرض کرتے ہیں : رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا اے خدا! پہلا مطالبہ تو ہمارا یہ ہے کہ اب جب ہمیں نئی زندگی عطا کی گئی نئے دور میں ہم داخل ہور ہے ہیں تو ہمارے پرانے گناہوں کا شمار نہ کیا جائے۔Clean slate یعنی بالکل صاف سختی کے ساتھ ہم دوبارہ زندگی کا ایک نیا سفر شروع کریں لیکن یہ کہنا بھی کافی نہیں کیونکہ زندگی کے اندر بہت سی برائیاں اس طرح داخل ہو جاتی ہیں جیسے فطرت ثانیہ بن گئی ہوں اور محض ایمان لانے کے نتیجے میں وہ بیماریاں - از خود جھڑ نہیں جایا کرتیں۔پرانے گناہ تو بخشے گئے لیکن بد عادتیں جو زندگی کا حصہ بن چکی ہیں وہ کیسے چھٹیں گی اور ان کے نتیجے میں جو نئے گناہ پیدا ہوتے رہیں گے ان کا کیا بنے گا تو دیکھئے صاحب عقل لوگ کیسی اچھی دعا کر رہے ہیں۔کہتے ہیں : وَكَفِّرْ عَنَّا سَيَاتِنَا پہلے کی بخشش اور آئندہ ہم سے ہماری وہ برائیاں دور کرنا شروع فرما دے جو برائیاں ہمارے ساتھ لاحق ہوچکی ہیں ، بیماریوں کی طرح ہمیں چمٹ گئی ہیں۔جن کو دور کرنا ہماری طاقت میں نہیں ہے۔پس ایمان لانے کے ساتھ ہی سب برائیاں دور نہیں ہو جایا کرتیں اور یہ خصوصاً ان مسلمانوں کو یا درکھنا چاہئے جو دنیا میں تبلیغ اسلام کر رہے ہیں۔محض تبلیغ کے ذریعے کسی کو مسلمان بنالینا