خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 327
خطبات طاہر جلد ۱۰ 327 خطبہ جمعہ ۱۹ را پریل ۱۹۹۱ء اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کی روشنی میں انبیاء کی دعائیں اور ان کی عظ (خطبه جمعه فرموده ۱۹ اپریل ۱۹۹۱ء بمقام بیت الفضل لندن) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔گزشتہ خطبے میں یہ مضمون چل رہا تھا کہ سورہ فاتحہ کی آخری دعا یعنی اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ ایک بہت ہی مشکل دعا ہے کیونکہ وہ لوگ جن پر خدا نے انعام فرمایا ان کی راہیں بہت مشکل راہیں تھیں اور ان پر چلنے کی دعا مانگنا بھی بڑے حوصلے کا تقاضا کرتا ہے۔ساتھ ہی میں نے یہ بیان کیا کہ جب ہم قرآن کریم کا مطالعہ کرتے ہیں اور ان انعام یافتہ لوگوں کی زندگی کے حالات کو قرآن کریم کے شیشے میں دیکھتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ انہوں نے اپنی راہوں کو دعاؤں کے زور سے آسان کیا اور دعاؤں کے سہارے ان کا یہ سفر جو بہت ہی مشکل تھا آسانی سے طے ہوا یہاں تک کہ وہ اپنے نیک انجام کو پہنچے۔پس نتیجہ یہ نکلا کہ ہمیں بھی جب ہم سورہ فاتحہ میں مذکور دعا کرتے ہیں تو ان دعاؤں کا سہارا لینا چاہئے جن دعاؤں کا سہارا ہم سے پہلے انعام یافتہ لوگوں نے لیا تھا ورنہ اس راہ پر سفر کرنا تو درکنار یہ دعا مانگنے کی بھی ہمت نہیں پیدا ہوسکتی۔کچھ دعا ئیں جو قرآن میں مذکور ہیں ان کا بیان گزر چکا۔اب میں جہاں سے مضمون ختم ہوا تھا وہاں سے دوبارہ شروع کرتا ہوں۔حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق قرآن کریم میں بیان ہوا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ