خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 319
خطبات طاہر جلد ۱۰ 319 خطبہ جمعہ ۱۲ ار ا پریل ۱۹۹۱ء ایس مشت خاک را گر به بخشم چه کنم کہ اس خاک کی مٹھی کو میں بخشوں نہ تو کروں کیا۔اس انسان کی حیثیت کیا ہے؟ اتنا کمزور اتنا ناقص ، بار بار گناہوں میں مبتلا ہونے والا۔چلو دفعہ کرو اس کو ، بخش ہی دو۔خاک کی مٹھی ہی تو ہے تو یہ معنی وَارْحَمْنَا کے ہیں کہ اے خدا! پھر یہ کہہ دینا کہ چلو رحم ہی کر لیتے ہیں۔کچھ نہیں۔انتَ مولنا یہ بات یاد رکھنا کہ ہمارا مولا تو ہے۔اس لفظ میں ساری دعا کے درد کو سمو دیا گیا ہے اور دعا کی قبولیت کا راز بیان فرما دیا گیا ہے۔ان حالتوں کے باوجود سوائے تیرے ہم نے کسی اور طرف نہیں دیکھا۔اپنی تمام کمزوریوں اور گناہوں کے باوجود تجھ سے اس معنوں میں وفا کی ہے کہ اپنا مولا صرف تجھے سمجھا ہے اور کسی اور کو نہیں سمجھا۔پس جب مولا تو ہے تو جائیں کہاں؟ دیکھئے ! وہی دعا ہے ناں کہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کہ اے خدا جب تیری عبادت کرتے ہیں ، کسی اور کی کرتے ہی نہیں تو مد دکس سے مانگیں؟ اور ہے کون؟ ہم تیرا در چھوڑ کر جائیں کہاں چین دل آرام جاں پائیں کہاں ( کلام محمود:۔۔) اور کچھ بھی نہیں ہے پس مولنا نے وہ راز کھول دیا کہ کیوں ایسی عجیب و غریب سی دعائیں مانگو ، جن میں کوئی منطق نظر نہیں آتی۔کیوں خدا تم سے یہ سلوک کرتا چلا جائے یہ عرض کرنا کہ اے خدا! ہمارا مولا تو ہے۔اگر ہم نے کسی اور کو مولا بنالیا تو پھر ان دعاؤں کا ہمیں استحقاق نہیں رہے گا۔پس یہ دعا مقبول تب ہوگی اگر آپ کا مولا خدا ہی ہو۔اگر ضرورت اور مصیبت کے وقت دوسروں کی طرف نہ بھاگیں اگر شرک میں مبتلا نہ ہوں۔اگر مولا دنیا والے بنائے ہوئے اور دعا محمد رسول اللہ والی کریں کہ جن کا مولا خدا کے سوا کوئی بھی نہیں تھا تو ایک بے محل دعا ہو گی۔اس کا آپ سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَفِرِينَ۔پس انکار کرنے والوں اور ناشکری کرنے والوں پر تو ہمیں نصرت عطا فرما کیونکہ ہمارا مولا تو ہے اور تیرے سوا اور کوئی مولا نہیں۔پھر یہ دعا سکھائی رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ ( آل عمران : ۹) یہ دعا راسخون فی العلم کی دعا کے طور پر سکھائی گئی ہے جو محکمات اور متشابہات دونوں پر ایمان لاتے ہیں اور یہ عرض کرتے ہیں۔کل من