خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 318 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 318

خطبات طاہر جلد ۱۰ 318 خطبہ جمعہ ۱۲ ار ا پریل ۱۹۹۱ء گی۔بھول چوک معاف پرانے لوگوں کی غلطیاں دوہرانے کی تو ہمیں توفیق ہی نہیں بخشے گا۔ہم تیری تعلیم کو ہرگز اپنے لئے بوجھ نہیں بنے دیں گے اور نہ تیری تعلیم کو بوجھ شمار کریں گے اور نہ ٹیکس شمار کریں گے۔پھر اس کے بعد کیا ہے رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِہ اس کے باوجود ہمیں پتا نہیں کہ پھر بھی کیا کیا ہونے والا ہے جہاں تک گزشتہ تاریخ کے سبق ہیں وہ تو ہم حاصل کئے لیکن اپنی کمزوریوں سے ہم پھر بھی واقف نہیں ہیں۔وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ تو نے وعدہ فرمایا ہے۔لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا پس اس وعدے کو یاد دلاتے ہیں اور پھر یہ تاکید اعر ض ہے۔کہ ہم میں جتنی طاقت ہے اس سے زیادہ ہم پر بوجھ نہیں ڈالنا۔طاقت دیکھ کر بوجھ ڈالنا اور اس کے بعد پھر بعد میں کیا سلوک ہو۔وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا اے خدا ! عفوكا سلوک فرمانا۔پھر بھی گناہ ہوں گے تو دیکھنا ہی نہ گویا گناہ ایک طرف ہورہے ہیں اور تیری نظریں دوسری طرف ہیں۔وَاغْفِرْ لَنَا اور جو گناہ تیری نظر کے سامنے آجائیں ویسے تو ہر چیز پر خدا کی نظر ہے لیکن ایک اسلوب بیان ہے۔جس طرح بعض لوگ حلم کا سلوک کرنے والے ، مغفرت کا سلوک کرنے والے عفو سے آغاز کرتے ہیں اور کوشش کرتے رہتے ہیں کہ برائی نظر کے سامنے ہی نہ آئے۔برائی کو اس وقت دیکھتے ہیں جب پکڑنے کا ارادہ کرتے ہیں حضرت مصلح موعودؓ کا بھی یہی طریق تھا مجھے یاد ہے بچپن میں آپ جب گھروں میں آیا کرتے تھے تو ہم بچپن کی کئی قسم کی بیہودہ حرکتیں کیا کرتے تھے تو آپ اس طرح غفلت کی نظر سے دیکھتے ہوئے گزرتے تھے جیسے پتا ہی نہیں لگا اور اس وقت دیکھتے تھے جب پکڑنے کا ارادہ ہو۔جب سمجھیں کہ اب معاملہ کچھ ہاتھ سے بڑھتا چلا گیا ہے لیکن خدا سے یہ دعا نہیں ہے کہ ہمیں اس وقت گناہوں میں دیکھنا جب پکڑنے کا ارادہ ہو۔فرمایا جب دیکھنا تو بخشش کے ارادے سے دیکھنا۔جب پکڑے جائیں ، بات کھل جائے تو وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا اور رحم فرمانا۔استحقاق کوئی نہیں۔بار بار کی غلطیاں ہوں گی۔تیرے حضور حاضر ہوں گے کچھ لے کر نہیں حاضر ہوں گے۔ایسے اقرار بار بار توڑ چکے ہوں گے جو تیرے حضور مضبوطی سے باندھے ہوئے ہوں گے۔کئی دفعہ تو بہ کی ہوگی۔ایسی صورت میں رحم کا سلوک فرمانا۔کہنا: بڑے کمزور عاجز انسان ہیں ان کا کام ہی یہی ہے غلطیاں کرنا۔جیسا کہ آنحضرت ﷺ کا ایک فارسی کا الہام بھی بیان کیا جاتا ہے کہ:۔