خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 317 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 317

خطبات طاہر جلد ۱۰ 317 خطبہ جمعہ ۱۲ اراپریل ۱۹۹۱ء موٹروں کو گدھے گاڑیوں کو ، اس زمانے میں تو گھوڑے اور خچر وغیرہ ہوا کرتے تھے تو ان کو روکنے کے لئے ہوتی تھی کہ اپنا ٹیکس دے کر جاؤ تو یہ سارے مفاہیم ہمیں بتاتے ہیں کہ اس دعا کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم پر کوئی ایسی شریعت نہ نازل فرمانا بوجھ سے مراد بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ خدا کی طرف سے پابندیاں ہیں ، ہرگز یہ مراد نہیں مراد یہ ہے کہ ہم پر ایسی پابندیاں نہ لگانا جن پابندیوں کو برداشت نہ کر کے پرانے لوگوں کی کمریں ٹوٹ گئیں اور وہ منہدم ہو گئے اور ایسی پابندیاں نہ لگانا جوتو نے کم لگائی تھیں لیکن رفتہ رفتہ لوگوں نے بڑھانی شروع کر دیں اور سیدھے سادے دین کو منجھل بنادیا۔چنانچہ وہ جو قرآن کریم میں دوسری جگہ آتا ہے کہ محمد رسول اللہ ہے لوگوں سے ان کے اصر دور فرماتا ہے۔جن بوجھوں میں وہ مبتلا ہوئے ہیں ، جو زائد رسم ورواج ان کے گلوں کے طوق بن گئے ہیں وہ ان سے ان کو رہائی دلاتا ہے۔تو یہ وہ مضمون ہے کہ ہمیں ایسے لوگوں کے رستے پر نہ چلانا جن کی تعلیمات ان کے لئے رفتہ رفتہ اِصر بن گئیں۔اس میں اضافے ہونے شروع ہو گئے، رسم و رواج پیدا ہو گئے۔ایسی مشکل بنادی گئیں کہ پھر ان پر عمل نہیں ہوسکتا تھا اور پھر ایسے بھی لوگ تھے جن کی تعلیمات رفتہ رفتہ ٹیکس کی وصولی کی طرح بو جھل اور قابل نفرت بن گئیں۔جب ان سے ان تعلیمات پر عمل کرنے کا مطالبہ کیا جاتا تھا تو سننے والے یہ سمجھتے تھے کہ یہ کیا مصیبت ہے۔یہ ویسی ہی کیفیت ہے جیسے گزشتہ کچھ عرصہ پہلے ضیاء الحق صاحب نے نماز فرض کردی تھی۔ایک تو خدا نے فرض کر رکھی تھی 1400 سال پہلے سے ایک ضیاء صاحب نے اس کے اوپر پھر فرض فرما دی اور اس وقت کی جو کیفیت لوگ مجھے لکھا کرتے تھے وہ بالکل وہی تھی ، جو میں بیان کر رہا ہوں کہ لوگ سمجھتے تھے کہ یہ تو ٹیکس پڑ گیا ہے اس کی ادائیگی سے جس طرح ہو سکے بھا گو۔جو خدا کی فرض کردہ نمازیں پہلے پڑھتے تھے وہ تو اسی طرح پڑھتے رہے ان کو تو کوئی فرق نہیں پڑا لیکن ایک بڑی تعداد وہ تھی جو صر سمجھ کر نمازوں کو پڑھتے تھے اور ان کا رجحان یہ تھا کہ گویا ان پر ٹیکس عائد کر دیا گیا ہے تو دیکھیں کتنی اچھی دعا سکھا دی۔فرمایا: اے خدا تیری تعلیم کو تو ہم قبول کریں گے لیکن ہم تجھ سے کچھ گزارشات کرتے ہیں ہم ہر چیز پر ایمان لے آئے یہ عہد کر بیٹھے ہیں جو سنیں گے اس کی اطاعت کریں گے لیکن اب ہمارے ساتھ ذرا ایک Code of conduct طے ہو جائے ایک ایسا طریق کار وضع ہو جائے جس پر ہم سے تیر امعاملہ ہوگا۔ایک یہ کہ خطا تو شمار میں ہی نہیں آئے