خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 316 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 316

خطبات طاہر جلد ۱۰ 316 خطبہ جمعہ ۱۲ اپریل ۱۹۹۱ء صدیقوں کے مطابق ، شہداء سے شہداء کے مطابق اور صالحین سے صالحین کے مطابق ۔ لھا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ قانون یہ ہے کہ جو کچھ بھی نیکی تم سے سرزد ہو گی یا ان لوگوں سے ہوگی اس نیکی کی میں جزاء ضرور دوں گا مگر بدی کے متعلق احتیاط کرلوں گا کہ نبیت اور پختہ نیت کا دخل ہو۔ جان بوجھ کر عمداً کی گئی ہو۔ اكْتَسَبَتْ میں واضح نیت اور ارادے کا معنی پایا جاتا ہے تو دیکھئے یہ بھی کتنا احسان اور مغفرت کا سلوک ہے ۔ دراصل غفرانگ کا جواب ہے فرمایا۔ ہاں غفران کا سلوک کروں گا اس طرح کہ نیکی تم سے راہ چلتے اتفاقاً بھی ہو جائے تو میں کہوں گا کہ تمہارے حساب میں لکھ لی جائے اور فرشتے تمہارے حساب میں لکھ لیا کریں گے لیکن بدی کے متعلق احتیاط کا حکم دوں گا کہ دیکھنا اس کی نیت تھی کہ نہیں۔ ارادہ تھا کہ نہیں ۔ چنانچہ حضرت آدم کے ذکر میں فرمایا: وَلَمْ نَجِدُ لَهُ عَزْما (طہ: ۱۱۶) ہم نے جو اس سے مغفرت کا سلوک فرمایا تو وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْما ہم نے خوب ٹول کر دیکھا ، اس کی نیت میں عزم نہیں پایا جاتا تھا۔ ٹھوکر کھائی تھی ، غفلت ہو گئی تھی ۔ پس غفرانک کا جواب بھی ہمیں مل گیا۔ صلى الله عروسه پھر وہ دعا بتائی اور تفصیل کے ساتھ اس دعا کا ذکر فرمایا جو حضرت محمد مصطفی عالی اور آر آپ کے شاگرد آپ کے غلام آپ کے صحابہ ہمیشہ خدا صحابہ ہمیشہ خدا کے حضور گریہ وزاری سے کیا کرتے تھے ۔ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِن نَّسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا (البقره: ۲۸۷) اے خدا! لَا تُؤَاخِذْنَا ہرگز ہمار مواخذہ نہ فرمانا ۔ اِنْ نَّسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا اگر ہم سے بھول چوک ہو جائے اور غلطی کر دیں تو اس کا تو کوئی کھاتا ہی نہ رکھنا ۔ اسے تو شروع سے ہی صاف کر دینا کہ ٹھیک ہے ، یہ کسی شمار میں نہیں ہوگی ۔ پھر رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا اور اے خدا! جہاں تک اس امر کا تعلق ہے جو تو نے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا وہ ہم پر ڈالنا ہی نہ۔ اصر اور حمل دو مضمون ہیں جو اس آیت میں بیان ہوئے ہیں۔ امر سے متعلق لغوی تحقیق یہ ہے۔ اصر الشئی کسی چیز کوتو را مروڑ روکا۔ کوئی چیز اتنا بڑھ گی مثلا درخت کی شاخیں کہ آپس میں کھلیں پڑ گئیں اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ایک دوسرے کو خراب کرنے لگ گئیں۔ اور انتصرا القوم : لوگ زیادہ ہو گئے ۔ مأصر : اس رسی کو بھی کہتے ہیں جو سڑک پر ٹول (Toll) وصول کرنے کے لئے لگائی جاتی تھی ۔ آج کل بھی گیٹ Gate لگتے ہیں ۔ یعنی وہ رسی جو گاڑیوں کو