خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 315 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 315

خطبات طاہر جلد ۱۰ 315 خطبہ جمعہ ۱۲ اراپریل ۱۹۹۱ء بھی ایمان لائے اور یہ اقرار کیا لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِنْ رُّسُلِہ کہ جہاں تک وحی کی عظمت کا تعلق ہے جہاں تک تیرے فرمان کے احترام کا تعلق ہے ہم کسی بڑے چھوٹے رسول کی وحی میں فرق نہیں کریں گے۔جو حکم تیری طرف سے آئے گا وہ کسی طرح ہم تک پہنچے، خواہ بڑے رسول کے ذریعہ پہنچے یا چھوٹے رسول کے ذریعے پہنچے ہم تو تیرے حکم پر نگاہ کرنے والے ہیں اس لئے جہاں تک وحی کے احترام کا تعلق ہے اس میں ہم کوئی فرق نہیں کریں گے کہ کوئی رسول زیادہ قابل احترام ہے اور کوئی رسول کم قابل احترام ہے اس بحث میں نہیں پڑیں گے اور پھر وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ اے خدا! ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کر دی یعنی جو کچھ ہم نے سنا اس سب پر ہم ایمان بھی لائے اور ہم اطاعت کے لئے حاضر ہوگئے اور عمل کرنا شروع کر دیا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَ إِلَيْكَ الْمَصِيرُ اس لئے اب ہم تجھ سے بخشش کا حق مانگتے ہیں، بخشش کی تو قع رکھتے ہیں تو ہم سے بخشش کا سلوک فرما۔دیکھئے اس میں بھی کتنا انکسار ہے۔محمد رسول اللہ ﷺ اور آر کے ساتھی جس کیفیت کے ساتھ خدا کی وحی پر ایمان لائے کبھی دنیا میں کوئی قوم ایسی پیدا نہیں ہوئی جس نے اس شان کے ساتھ اس خلوص کے ساتھ اس طرح مضمون کی باریکیوں کو سمجھتے ہوئے خدا کے کسی نبی کی وحی پر ایمان لایا ہومگر یہ لوگ محمد رسول اللہ اور آپ کے ساتھی اس وحی پر اس کامل شان کے ساتھ ایمان لے آئے اور پھر خدا کے سب رسولوں پر فرشتوں پر کتابوں پر سب پر ایمان لانے کے بعد پھر اپنا یہ دستور بنالیا کہ سنا اور اطاعت شروع کر دی اور مقابل پر خدا سے کیا مانگا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا اس کے باوجود ہم کسی چیز کے مستحق نہیں ہم جانتے ہیں کہ یہ سب تو فیق تیری دی ہوئی ہے۔ہاں بخشش کی توقع رکھتے ہیں کہ ہم سے جو کمزوریاں ہو جائیں ،غفلتیں ہوں تو ہم سے بخشش کا سلوک فرما۔وَالَيْكَ الْمَصِيرُ اور ہم نے آخر تیرے پاس پہنچنا ہے۔کوئی مفر نہیں ہے۔لازما ہم سب آخر تیرے حضور پہنچیں گے۔لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا فرمایا ہاں میں جانتا ہوں کہ تم میں سے مختلف لوگوں کو میں نے مختلف توفیق عطا فرمائی ہے۔کسی کو زیادہ طاقتیں دی ہیں کسی کو کم طاقتیں دی ہیں چونکہ میں نے طاقتیں دی ہیں میں تم سے تمہاری طاقتوں کے مطابق سلوک کروں گا۔محمد مصطفی ماہ سے ان کی طاقتوں کے مطابق اور ان کے غلاموں سے درجہ بدرجہ ،صدیقوں سے