خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 312
خطبات طاہر جلد ۱۰ 312 خطبہ جمعہ ۱۲ اراپریل ۱۹۹۱ء قیامت تک اس سے فائدے اٹھانے تھے اسی لئے اس دعا کو بھی عظمت ہوئی اور اس دعا مانگنے والے کو بھی ایسی عظمت نصیب ہوئی جیسے محمد رسول ﷺ کے سوا کسی اور نبی کو نصیب نہیں ہوئی دوسری دعا میں قرآن کریم ہمیں سورۃ البقرہ آیت ۲۰۲ میں یہ سکھاتا ہے : رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ یہ دعا در حقیقت خدا تعالیٰ کی طرف سے ان بندوں کے متعلق بیان فرمائی گئی ہے جو مناسک حج ادا کرنے کے بعد پھر خدا سے خیر مانگتے ہوئے واپس لوٹتے ہیں۔وہ کیا کہتے ہوئے واپس آتے ہیں: رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ اے خدا ہمیں دنیا کی حسنات بھی عطا فرما اور آخرت کی حسنات بھی عطا فرما اور عَذَابَ النَّارِ سے بچانا۔یہاں حَسَنَةً اور فضل میں ایک فرق ہے جو آپ کو یاد درکھنا چاہئے ورنہ آپ کی دعا مکمل نہیں ہوگی۔فضل عموماً دنیاوی فوائد کے لئے استعمال ہوتا ہے اگر چہ دوسرے فوائد کے لئے بھی لیکن حَسَنَةً کا زیادہ تر تعلق نیکیوں سے ہے اور کوئی ایسی خیر حَسَنَةٌ میں داخل نہیں ہوتی جو نیکی سے خالی ہو۔اس لئے حَسَنَةٌ میں جو حسن ہے وہ دوسری دعاؤں میں ویسا پیدا نہیں ہوتا کیونکہ مراد یہ ہے کہ ہمیں ہر اچھی چیز دے۔دنیا میں سے بھی اچھی چیزیں دیں یعنی دنیاوی لحاظ سے بھی اچھی ہوں اور تیرے حضور بھی وہ اچھی اور پسندیدگی کی نظر سے دیکھنے کے لائق ہوں اور پھر آخرت میں سے بھی بہترین چیزیں عطا فرما اور دین میں سے بھی اس حصے پر عمل کرنے کی توفیق بخش جو سب سے زیادہ حسین ہے یعنی تعلیم کا وہ حصہ جو چوٹی کا حصہ ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس دعا کے متعلق فرمایا:۔”ہماری جماعت ہر نماز کی آخری رکعت میں بعد رکوع مندرجہ ذیل دعا بکثرت پڑھے“۔رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ کہ اے ہمارے رب ہمیں دنیا کی بھی حَسَنَةٌ عطا فرما اور آخرت کی بھی حَسَنَةٌ عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔پس وہ احمدی جو اس فرمان سے واقف نہیں ہیں وہ شاید دعا سے تو واقف ہوں گے لیکن یہ علم نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نظر میں یہ دعا کتنی اہمیت رکھتی تھی۔ایک موقعہ پر حضرت انس کی روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ ایک مریض کی عیادت کے لئے