خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 310 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 310

خطبات طاہر جلد ۱۰ 310 خطبہ جمعہ ۱۲ ار ا پریل ۱۹۹۱ء گی کہ نہیں رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُوْلًا مِنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أَيْتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الكتب وَالْحِكْمَةَ اے خدا ان لوگوں میں سے جو یہاں پیدا ہوں گے وہ عظیم الشان رسول بر پا فرما يَتْلُوا عَلَيْهِم ايتك جو تیری آیات ان پر تلاوت کرے گا وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتب وَالْحِكْمَةَ اور انہیں کتاب بھی پڑھائے گا اور اس کی حکمت بھی۔وَيُزَكِّيهِمْ اور ان کو پاک فرمائے گا اِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ یقیناً تو غالب قدرتوں والا اور بڑی حکمتوں والا ہے۔یہ دعا کی وہ تان ہے جہاں جا کر یہ دعائوئی ہے، جہاں جا کر یہ دعا اپنے عروج تک پہنچی ہے اور اب سمجھ آئی کہ پہلی دعاؤں میں اس قدر تقویٰ کی باریک راہوں کی پیروی کیوں ہو رہی تھی ؟ اتنا انکسار کیوں تھا ؟ اتنی بار بار کی احتیاط کیوں تھی کہ اے خدا ہماری دعاؤں کو قبول فرمانا۔ہمیں پاک وصاف رکھنا۔ہم میں ذرا بھی غیر کا کوئی شائبہ تک باقی نہ رہے خالص تیرے لئے ہم یہ کام کر رہے ہوں اور تو ان کاموں کو قبول کر رہا ہو کیونکہ یہ دعا حضرت اقدس محمد مصطفی اللہ کے سلسلے کی بنیاد ڈالنے والی دعا تھی اور اس عظیم الشان رسول کے بر پا کرنے کی دعا تھی جس کی خاطر ساری کائنات کو پیدا کیا گیا تھا۔اس لئے غیر معمولی تقویٰ کی ضرورت تھی اور غیر معمولی انکسار کی ضرورت تھی۔یہ وہ مقام تھا جہاں تکبر داخل ہوسکتا تھا بعض تکبر نیکی میں بھی داخل ہو جاتے ہیں اور شیطان بہکا سکتا تھا کہ تم دونوں؟ تم تو اتنے عظیم الشان وجود ہو کہ وہ عظیم وجود جس کی خاطر ساری کائنات کو پیدا کیا گیا تھا وہ تمہاری نسل سے پیدا ہونے والا ہے۔تو جتنا بڑا مقام عطا ہونے والا تھا اتنی ہی عاجزی بھی سکھائی گئی اور اس طرح انہوں نے عاجزانہ طور پر خدا کے حضور یہ دعائیں مانگیں جو بعینہ اسی طرح قبول ہوئیں۔حیرت انگیز طریق پر ان ہی لفظوں میں یہ دعا قبول ہوئی ہے جن لفظوں میں ابراہیم علیہ السلام نے خدا سے مانگی تھی لیکن ترتیب انسانی سوچ کی تھی اگر چہ نبی تھا مگر بہر حال انسان تھا، اس لئے اللہ تعالیٰ نے ترتیب بدل دی چنانچہ فرمایا: هُوَ الَّذِى بَعَثَ فِي الْأُمِّينَ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أَيْتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ ایه لَفِی ضَللٍ مُّبِينٍ (الجمعہ: ۳) ابراہیم علیہ السلام نے تو یہ عرض کیا تھا کہ جب وہ تلاوت آیات کر دے، پھر ان کی تعلیم دے دے، پھر ان کی حکمت سکھا دے تو اس کے نتیجے میں اس کے اندر پاک کرنے کی صفات پیدا ہو جائیں گی ، پاک کرنے کی اہلیت پیدا ہو جائے گی پھر وہ ان کو پاک کرے