خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 309 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 309

خطبات طاہر جلد ۱۰ 309 خطبہ جمعہ ۱۲ اراپریل ۱۹۹۱ء ابراہیم نے قواعد بیت کو اللہ کے گھر کی بنیادوں کو استوار کرنا شروع کیا۔واسمعیل اور اسماعیل اس کے ساتھ تھا تو اس وقت پہلی دعا ان کی یہ تھی رَبَّنَا تَقَبَّلُ مِنَّا کہ اے خدا ! ہم سے اس کو قبول فرمالے۔حضرت ابراہیم کی جو یہ دعا ہے اور حضرت اسماعیل کی یہ دعا ہے اس دعا میں بہت گہری حکمتیں ہیں پہلی بات تو یہ سمجھائی گئی ہے کہ خدا کی خاطر اتنی مشقت اٹھا کر ، اتنی مصیبتیں برداشت کر کے ایک ویرانے میں ابراہیم اپنی بیوی اور بچے کو لے کر آیا۔پھر لمبی مصیبتوں میں انتظار کیا بھوک دیکھی پیاس دیکھی ہر قسم کی تکلیفیں اٹھا ئیں۔بار بار آتا رہا یہانتک کہ وہ بچہ بڑا ہو گیا اور خدا کی خاطر، محض خدا کی خاطر گھر تعمیر کیا جارہا ہے لیکن انکسار کا یہ عالم ہے کہ رَبَّنَا تَقَبَّلُ مِنا سے دعا شروع کی۔اے اللہ ! قبول فرما لینا گھر تو تیری خاطر بنا رہے ہیں خالصہ نیکی کی خاطر لیکن انسان خود اپنی نیتوں کی کنہوں سے واقف نہیں ہوتا انسان اپنے اندرون حال سے خود واقف نہیں ہوتا ، اس لئے ہم یہ عرض کرتے ہیں کہ جو کچھ بھی ہم تیرے حضور پیش کر رہے ہیں اسے اپنی رحمت سے قبول فرمالینا۔إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ تو سنے والا بھی ہے اور جاننے والا بھی ہے۔صرف دعا ئیں سنتا ہی نہیں ان کے احوال سے واقف ہے۔ان کے رازوں سے واقف ہے۔ان نیتوں سے واقف ہے جو دعاؤں سے پہلے ہوتی ہیں اور جن کے نتیجے میں دعائیں اٹھتی ہیں۔رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ اے خدا! اس عبادت کے گھر کا کیا فائدہ؟ اگر ہم بنانے والے خود تیرے حضور مسلمان نہ ٹھہریں۔پس ہم دونوں کو اپنا فرمانبردار بنائے رکھنا۔مُسْلِمَيْنِ لَكَ ہمیشہ کے لئے اپنا فرمانبردار بنائے رکھنا وَارِنَا مَنَاسِكَنَا اور فرمانبرداری کی حالت میں ہمیں عبادت کے راز بھی سکھانا اور قربان گاہیں بھی دکھانا۔منسک سے دونوں مراد ہو سکتے ہیں عبادت کا طریق بھی اور قربانی کا طریق اور وہ جگہیں جہاں انسان قربانی پیش کرتا ہے وَتُبْ عَلَینا لیکن پھر ہم یہ عرض کرتے ہیں کہ ہم سے بخشش کا سلوک فرمانا ہماری تو بہ کو قبول کرنا اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ تو تو بے انتہا تو بہ قبول کرنے والا ہے اور بے حد رحم کرنے والا ہے۔پس نیکی کی دعاؤں کے ساتھ یہ عاجزی اور انکساری کی گریہ وزاری بھی جاری ہے اور اعتراف ہے کہ ہم کچھ بھی نہیں ہم گنہ گار ہیں ہم نیکی کے جو کام بھی کرتے ہیں ان پر بھی ہمیں پورا یقین نہیں ہو سکتا جب تک تیری طرف سے رضا مندی حاصل نہ ہو جائے کہ یہ نیکیاں قبول بھی ہوں